جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

کراچی محفوظ ہوگیا، کسی سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں، ریحام خان

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام خان نے کہا ہے کہ کراچی ہمارا شہر ہے ہمیں کسی سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں،کراچی اب اتنا محفوظ ہوچکا ہے کہ میں بچوں کے ہمراہ مزار قائد آئی ہوں۔اردو بولنے والوں کی نمائندگی الطاف حسین نہیں کرتے ہیں، ایسا شخص جو 21سال سے باہر بیٹھا ہوا ہے وہ لوگوں کو اکساتا ہے اور خود کراچی آنے سے ڈرتا ہے، خود کو کراچی میں غیر محفوظ سمجھنے والا شخص کراچی کے عوام کی نمائندگی کا حق دار نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ریحام خان نے کہا کہ جو ظلم برداشت کرے وہ بھی ظلم میں شریک ہے۔ آج ہر پاکستانی آزاد فضا میں سانس لے رہا ہے ، آج کے دن ہمیں آزادی کے مفہوم کو یاد رکھنا چاہئے ۔ پاکستانی قوم علامہ اقبال اور قائداعظم کے نقش قدم پر چلے۔ قائداعظم نے اقلیتوں کو بھی آزادی دی ، پاکستان کے جھنڈے میں خوبصورتی اقلیتوں کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں بیٹھ کر ایسے لوگوں کے امیج کو خراب کیا جا رہا ہے جنہوں نے وطن کے لئے قربانیاں دیں اگر ہم تبدیلی کے لئے لوگوں کو رسک لینے کا کہتے تو خود بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ درندگی کی ایک مثال ہے۔ ملزمان کو مثالی سزائیں ملنی چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کا جرم نہ کرسکے ۔معاشرے میں تفریق پھیلانے والوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تحریک انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ہے ۔آج تحریک انصاف ملک کی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم ،صحت اور روزگار کے سب کو یکساں مواقع حاصل ہونے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی آئے گی نہیں بلکہ آگئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…