جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

بچوں کے تحفظ کے قوانین مزید سخت کرنے کیلیے بل پارلیمنٹ کو ارسال

datetime 15  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت قانون نے بچوں کے تحفظ کیلیے قوانین کو سخت کرنے کی غرض سے متعدد بل پارلیمنٹ کو غور کیلیے بھیج دیے ہیں۔کرمنل لا ترمیمی بل 2015ء کی منظوری کی صورت میں بچوں کی نازیبا تصاویر اور وڈیوبنانا قابل تعزیرجرم بن جائے گا۔مجوزہ بل کا مسودہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون میں زیر غور ہے جس میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کرکے بچوں سے متعلق جرائم میں سزائیں مزید سخت کی گئی ہیں۔مجوزہ بل میں بچوں کے بارے میں قوانین کواقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی آر سی) سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔بل کی منظوری کی صورت میں پاکستان میں بچوں کی بلوغت کی قانونی عمر 18 سال ہوجائے گی جو اس وقت مروجہ قانون کے تحت16 سال مقرر ہے۔مجوزہ قانون میں بچوں کی اسمگلنگ اور ان سے جسمانی مشقت لینے کو روکنے کیلیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ child abuseکی تعریف کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔نیشنل کمیشن آن چائلڈ رائٹس کے نام سے ایک اور بل بھی منظوری کیلیے پارلیمنٹ کو بھیجا گیا ہے جس میں بچوں کے تحفظ کیلیے ایک آزادکمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے، اس کمیشن میں قانون دانوں کے علاوہ حقوق انسانی کیلیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…