جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی ایف16بھارت کے سخوئی ایس یو30کومات دے سکتے ہیں ،بھارتی میڈیا

datetime 14  اگست‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے نئے ایف سولہ طیارے بھارت کے سخوئی ایس یو30کو مات دے سکتے ہیں، پاک فضائیہ کے ایف سولہ طیاروں کے دو اسکواڈرن کا مقابلہ کرنے کیلئے رافیل طیاروں کے دو اسکواڈرن لیے جارہے۔ بھارتی تھنک ٹینک Arming India کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تازہ ترین بیڑے بلاک 52 کے ایف16 بھارت کی فرنٹ لائن کے سرفہرست جنگی طیارے سخوئی ایس یو 30 کو مات دے سکتے ہیں۔روزنامہ جنگ کے صحافی رفیق مانگٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ایک اعلٰی بھارتی حکومتی عہدیدار نے تصدیق کی کہ بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) حریف کے فضائی جنگی پلیٹ فارم پر مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے فرانسیسی ساختہ میڈیم ملٹی رول لڑاکا طیارے رافیل کا انتخاب کیا تھا تاکہ ایف 16 کی صلاحیتوں کا مقابلہ کر سکے۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت نے2007 کے فرانس سے 126رافیل طیاروں کے ٹینڈر کو رواں برس واپس لے لیا ہے۔پاکستانی فضائیہ کے ایف سولہ طیاروں کے دو اسکواڈرن سپر الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کے لحاظ سے بھارتی طیاروں پر برتری رکھتے ہیں جس پر بھارتی کمانڈر پریشان ہیں۔بصری حد سے باہر( BVR) کی لڑائی نہیں بلکہ آمنے سامنے کی لڑائی میں ایس یو30پاکستان کے ایف سولہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔پاک فضائیہ کے طیارے الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور معاصر فضائی لڑائیوں میں برتر ہیں پاکستان کے طیارے ای ڈبلیوصلاحیتوں پر انحصا ر کرتے ہیں جس میں ون آن ون ڈاگ فائٹ میں دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے ہر ایک ا یف سولہ طیارے کے لئے بھارت نے دو سخوئی Su-30s مقرر کر رکھے ہیں۔ اس لئے بھارتی فوج کو ایف سولہ طیاروں کا مقابلہ کرنے لئے زیادہ ایس یو 30 کی تعیناتی کرنی پڑ رہی ہے جس پر بہت زیادہ وسائل خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے ایف سولہ طیاروں کے چار اسکواڈرن آپریشنل ہیں جن میں ایف سولہ بلاک 52کے دو اسکواڈرن ہے۔ جب کہ بھارت کے سخوئی ایس یو30 کے دس اسکوڈرن ہے اور بھارت جلد روس سے لڑاکا طیاروں کے چار اسکواڈرن شامل کرے گا۔پاکستان ایف سولہ طیاروں کے دو اسکوڈرن پر برتری کے لئے بھارت 36رافیل طیارے لے رہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…