جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

اب کرپشن کرو۔۔۔۔! خیبر پختونخوامیں تاریخی ترمیم منظور

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا احتساب کمیشن ایکٹ 2014 ءمیں ترمیم کی بھی منظوری دی۔ ترامیم کے تحت یہ ایکٹ جنوری 2004 ءکے پہلے دن سے نافذ العمل ہوگا اور یہ ترامیم بھی اسی دن سے فانذ العمل تصور کی جائیں گی۔قانون کے تحت کسی ماتحت عدلیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ملزم کو ضمانت پر رہا کرے تاہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس میں شامل نہیں اور نہ ہی اس قانون کے تحت کسی سزایافتہ مجرم کی سزا میں کمی کی جاسکے گی،خیبرپختونخوا کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013اوراحتساب کمیشن ایکٹ2014ءمیں ترمیم کی منظوری دیدی،احتساب کمیشن ایکٹ میں تبدیلی کے بعدایکٹ جنوری2004کے پہلے دن سے نافذ العمل ہوگا وزیراطلاعات مشتاق غنی نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کا بینہ کا اجلاس وزیر اعلی خیبر پختونخواپرویز خٹک کی زیر صدارت میں منعقدا ہوا۔ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ءاور احتساب کمیشن ایکٹ 2014 ءمیں بعض ترامیم ، گلوبل الائنس آف ویکسینشن اور امیونائزیشنImmunizations) ( کے سٹاف کو ریگولرائز کرنے اور ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دیدی،انہوںنے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ءمیں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت ناظم ڈسٹرکٹ کونسل کو ناظم ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کر دیا گیا۔اسکے علاوہ ناظم اور نائب ناظم ڈسٹرکٹ کونسل یا تحصیل کونسل یا ٹاﺅن کونسل جیسی ہی صورت ہو کا انتخاب کونسل کے کل ممبران کی تعداد کی اکثریت کی بنیاد پر ہوگا۔اگر پہلے انتخاب میں ناظم یا نائب ناظم کل ممبران کی اکثریت کی بنیاد پر ووٹ حاصل نہیںکریگا تو پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے مابین دوسرا انتخاب ہوگا اور اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا ہی ناظم یا نائب ناظم جیسی بھی صورت ہو کو منتخب تصور کیا جائے گا۔انتخاب کا عمل تین مرتبہ تین ہفتوں کے دوران ہوگا اور اگر تین ہفتوں کے دوران کوئی بھی امیدوار اکثریت ثابت نہ کر سکے تو متعلقہ ضلعی،تحصیل یا ٹاﺅن کونسل خود بخود تحلیل ہو جائیگی۔انہوںنے کہا کہ صوبائی وزیر بلدیات جو پہلے فنانس کمیشن کے ممبر تھے اب وہ کوچیئرمین ہوں گے۔مشتاق غنی کاکہنا تھا کہ خیبر پختونخوا احتساب کمیشن ایکٹ 2014 ءمیں ترمیم کی بھی منظوری دی۔ ترامیم کے تحت یہ ایکٹ جنوری 2004 ءکے پہلے دن سے نافذ العمل ہوگا اور یہ ترامیم بھی اسی دن سے فانذ العمل تصور کی جائیں گی۔قانون کے تحت کسی ماتحت عدلیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ملزم کو ضمانت پر رہا کرے تاہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس میں شامل نہیں اور نہ ہی اس قانون کے تحت کسی سزایافتہ مجرم کی سزا میں کمی کی جاسکے گی۔ان ترامیم کے تحت حکومت کی جانب سے کسی بھی جگہ یا مقام کو پولیس سٹیشن قرار دیا جاسکے گا۔مشتاق غنی نے کہا کہ اہم ضرورت کی صورت میں جس کے تحت فوری ایکشن ضروری ہو ڈائریکٹر جنرل یا اس کی طرف سے کوئی بھی مجاز آفیسر بہتر تحقیقات اورانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی مقام کو پولیس سٹیشن یا سب جیل قرار دے سکے گا ۔عدالت کسی بھی کیس پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔انہوںنے مزید کہا کہ عدالت سات دنوں سے زیادہ کسی بھی کیس کو ملتوی نہیں کر سکے گی اور کیس کی پیروی روزانہ کی بنیاد پرہوگی۔مشتاق کاکہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے گاوی کے290 ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے اسمبلی میں قانون لانے کی بھی منظوری دی۔ انہوںنے کہا کہ سال 2008 ءمیں ایک بااختیار محکمہ ٹرانسپورٹ قائم کیا گیا۔ لائسنسوں کے اجراءکے علاوہ دیگر متعلقہ فرائض بھی محکمے کے سپرد کئے گئے ۔محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ نے محکمہ پولیس کو درخواست کی کہ وہ ریکارڈ بمعہ سٹاف اور دیگرمشینری محکمہ ٹرانسپورٹ کو مہیا کرے لیکن بعض وجوہات کی بناءپر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ دریں اثناءوزیر اعلی خیبر پختونخوا نے 22 اپریل 2015ءکو محکمہ داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی چار سفارشات کی منظوری دی



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…