پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج کی سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی ،اب کس کی باری ہے ؟

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

دبئی (نیوزڈیسک) پاک فوج نے کرپشن میں ملوث اپنے ہی سینئر جرنیلوں کے خلاف کارروائی کرکے ایک بے مثال اقدام کیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود، تین اور دو ستارہ جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا مطلب یہ ہے کہ بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں اور دیگر کے خلاف بھی اسی طرح کے احتساب کیلئے تیاری کر لی گئی ہے بالخصوص اس وقت جب ان کی لوٹ مار کی رقم دہشت گردوں، مجرمانہ گینگز یا مافیاز یا جرائم پیشہ افراد کی مدد یا معاونت یا ان کی عوام مخالف کارروائیوں سے جوڑی ہو۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کراچی کے سویلین حکومتی محکموں کے خلاف کارروائی اور طویل عرصہ سے غیر فعالیت کے بعد نیب کے دوبارہ فعال ہونے کے حوالے سے ہنگامہ برپا تھا۔ روزنامہ جنگ کے معروف تجزیہ کارشاہین صہبائی کے ایک تجزیہ کے مطابق ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز نائن زیرو، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، حتیٰ کہ سوک سینٹر پر جمعرات کو ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے بھی تنقید کی، وہ اس بات پر ناراض ہیں اور اس صورتحال کو وفاقی حکام کی ان کے دائرۂ اختیار میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ جذبات سے عاری چہرے اور تقریباً ناقابل یقین انداز میں وزیراعلیٰ سندھ کا اصرار ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ان کا اپنا انسداد بدعنوانی کا محکمہ اور صوبائی نیب ان کی انتظامیہ میں ’’بہت زیادہ فعال‘‘ ہیں اور اس کی مثال یہ ہے کہ 19 گریڈ تک کے افسران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ کہہ سکے اور نہ ہی انہوں نے سیاسی رہنمائوں کے خلاف عائد کردہ الزامات کے معاملے پر بات کی یا پھر ان الزامات کی تردید کی یا تبصرہ کیا کہ اہم سیاسی رہنمائوں کے گھروں یا پراپرٹیز سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، ان سیاستدانوں کی اکثریت پہلے ہی ملک سے جا چکی ہے۔ پہلے تو پیپلز پارٹی ان الزامات سے انکار کرتی رہی اور جب کسی پی پی رہنما سے پوچھا جاتا تو وہی تردید دہرائی جاتی اور یہ دلیل دی جاتی کہ اگر کوئی الزامات ہیں تو عدالت میں ثابت کیے جائیں۔ لیکن وزیراعلیٰ سندھ قائم شاہ نے اس بات کا اشارہ ضرور دیا کہ ایف آئی اے / رینجرز سوک سینٹر سے ایک ٹرک میں ہزاروں فائلیں لے گئے ہیں، ان میں کئی ’’انتہائی حساس فائلیں‘‘ بھی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی وضاحت نہیں کی۔ اس سیاسی مخالفت کے تناظر میں دیکھیں، فوج کی جانب سے اپنے ہی جرنیلوں کے خلاف ایکشن نے گیند اب سیاسی حکومتوں، بالخصوص منتخب حکومتوں، نیب، ایف آئی اے، انسداد بدعنوانی کی کمیٹیوں کے کورٹ میں ڈال دی ہے اور آخر میں معاملہ عدالتوں پر حتمیٰ کارروائی کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ چونکہ یہ ادارے کام نہیں کر رہےتھے اور کرپشن بے لگام ہو چکی تھی اور اب تو اس کا تعلق دہشت گردی سے جڑ رہا ہے، اسلئے اب یہ ذمہ داری فوج، رینجرز اور تمام صوبائی و وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف ہر کسی کے خلاف کارروائی کریں، چاہے وہ کوئی بھی ہو، کتنا ہی بڑا یا چھوٹا کیوں نہ ہو، سیاسی ہو یا مذہبی یا پھر اس کا تعلق مافیا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ کئی چھاپوں اور ہزاروں ثبوت اور معلومات ملنے کے باوجود مجبوری یا پھر رد عمل کے ڈر کی وجہ سے بڑے سیاست دانوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تنقید بڑھنے کے ساتھ ان پر عوامی دبائو اور مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ کرپشن کے ان مقدمات میں ملوث کئی افراد کو نچلی سطح پر مثلاً بڑے لوگوں کے فرنٹ مین، کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی بڑی مچھلی کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ لہٰذا، اگر فوج کی جانب سے اپنے جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا اگلا مرحلہ ملک کے اندر یا باہر موجود کسی بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالنا ہے تو یہ بہت ہی منطقی اور مقبول اقدام ہوگا۔ لیکن اگر فوجی حکام نے اپنے افسران کے خلاف کارروائی روک دی اور منصوبہ سازوں (ماسٹرمائنڈز) کو نہ پکڑا تو یہ ایسا لگے گا کہ جیسے این ایل سی کیس صرف نقادوں کو خاموش کرانے کی ترکیب تھی اور زیادہ کی توقع نہ کی جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…