پیر‬‮ ، 02 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

”کیا ڈیل ہوگئی؟“تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنیکامعاملہ،رائے شماری ہوئی تو۔۔۔

datetime 29  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ پرمایوس اور دل شکستہ ہے۔ اس کا ہر سیاسی حریف جسے دھرنے کے دوران تنقید اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا اب وہ اس کا حساب چکانا چاہتا ہے۔ انتہائی شدید مخالفین تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کو ایوان سے طویل عرصہ تک بغیر اجازت غیر حاضر رہنے پر انہیں رکنیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کارطارق بٹ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ جو ایسا چاہتی ہے، اس کی اپنی وجوہ ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان قائم ایک طویل عرصہ سے کشیدگی جو لندن میں الطاف حسین کے خلاف مظاہرے کے بعد مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ ایم کیو ایم قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے ارکان کو خارج کرنے کے لئے پیش قرارداد میں شریک ہے۔ جمعیت علماءاسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جنہیں دھرنے کے دوران عمران خان کی شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا، انہیں بھی حساب برابر کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ تاہم حکمراں مسلم لیگ(ن) کسی بحران یا افراتفری سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی سے نکالنے کے حق میں نہیں اور پیش کئے جانے کی صورت میں قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دے گی۔ مسلم لیگ(ن) کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ سے باہر ہی حل ہوجائے تاکہ ممکنہ قرارداد پر رائے شماری کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس مقصد کیلئے وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اسپیکر ایاز صادق کو قرارداد موخر کرنے کی تجویز دیں گے۔ اگر حکمراں جماعت تحریک انصاف کو قومی اسمبلی سے باہر دیکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تب قرارداد تقریباً متفقہ طور پر منظور ہوسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی جو تحریک انصاف کا ہدف رہی، اس کے باوجود وہ عمران خان کی جماعت کو قومی اسمبلی سے نکال باہر کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اسحٰق ڈار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں یہی موقف اختیار کیا۔ تحریک انصاف کی ہر ایک سے الجھنے کی پالیسی نے اسے تنہا کردیا۔ جس کے نتیجے میں اس نے دوست کم اور دشمن زیادہ بنالئے ۔اپنا احتجاج ختم کردینےکے باوجود عمران خان قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے گریزاں ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں شاہ محمود قریشی جو ایوان میں تحریک انصاف کی قیادت کررہے ہیں، انہوں نے معاملے سے نمٹنے میں اسپیکر ایاز صادق کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی مثبت انداز میں آگے کی جانب بڑھنے پر زور دیا۔ جماعت اسلامی بھی تحریک انصاف کی قومی اسمبلی سے اخراج کی مخالفت کرے گی۔ جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے عمران خان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اب انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی میں تحریک انصاف کا کردار نمایاں اور اہمیت کا حامل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Mind The Gape


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…