جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

میٹرو کے بجائے ڈیم کیوں نہ بنائے؟ معروف دینی رہنما نے حکومت کی کلاس لے لی

datetime 24  جولائی  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک)سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ محمد حامد رضا نے کہاہے کہ میٹرو کے بجائے ڈیم بنائے ہوتے تو سیلاب سے تباہی نہ ہوتی، شدید تحفظات کے باوجود جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ تسلیم کرتے ہیں،بیگز کھولنے کا مطالبہ مان لیا جاتا تو جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ مختلف ہوتا ، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے،انتخابی ااصلاحات کیلئے آئیڈیل وقت ہے،حکومت جوڈیشل کمیشن رپورٹ پر جشن منانے کے بجائے سیلاب زدگان کے مسائل پر توجہ دے، انتخابات کا فول پروف نظام تشکیل کیا جائے اور انتخابی نظام کی خرابیاں ختم کرنے پرتوجہ دی جائے، اسرائیل کا صحابہ کرام کے مزارات پر نائٹ کلب بنانے کا نا پاک منصوبہ قابل مذ مت ہے،مسلم حکمران اسرائیل کے اس کے نا پاک منصوبے کو روکنے کیلئے آواز اٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ پر غور کیلئے منعقدہ سنی اتحاد کونسل کے اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ چالیس لاکھ تارکین وطن کو ووٹ دینے کا حق دیا جائے۔فلڈ کمیشن کی رپورٹ پر عمل کیا جاتا تو سیلاب سے تباہی نہ ہو تی ۔ سند ھ کے فیصلے دبئی اور لندن میں ہونا بد قسمتی ہے۔حکومت نے سیلاب زدگان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔پاکستان اور چین کی بڑھتی دفاعی قوت سے بھارت بو کھلاہٹ کا شکا ر ہے۔دفاعی میدان میں پاکستان کی برتری پر مودی سرکار پریشان ہے۔مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر امن کی کوشش سراب ہے۔سیلاب سے بچاﺅ کیلئے پیشگی احتیاطی تدابیر کی جاتی تو تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے ہر سال تباہی پھیلتی ہے۔بھارت پانچ ہزار اور پاکستان میں صرف چھیاسی ڈیم ہیں۔ کالا باغ ڈیم نہ بننے کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ہر قدرتی آفت پر کئے جانیوالے بلند و باگ دعوے وقت گزرنے کے ساتھ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…