جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ ،سپریم کورٹ کا انتباہ

datetime 22  جولائی  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر عدالت کے سامنے کسی سطح پر وزیر اعلیٰ کی طرف سے سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق کوئی معاملہ زیر سماعت آیا تو عدالت اراضی الاٹمنٹ کا ایسا اختیار ختم کر دے گی، امریکی صدر اوبامہ کے پاس کسی شہری کو ایک کھوکھا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں مگر پنجاب میں شہریوں کو قیمتی سرکاری اراضی ایسے ہی الاٹ کر دی جاتی ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ساہیوال کے رہائشی محمد صدیق کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے 2004ءمیں ایک نوٹیفکیشن کے ذرریعے شہریوں کو 223ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کی جو بعد میںمحکمہ مال نے سرکاری ہاﺅسنگ سکیم بنانے کی خاطر واپس لے لی مگر رہائشیوں کو متبادل اراضی الاٹ نہیں کی گئی، محکمہ مال کیخلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا مگر عدالت عظمیٰ نے رہائشیوں کی اپیلیں خارج کر دیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کو وزیراعلیٰ کی الاٹ کردہ اراضی واپس لینے کا اختیار نہیں لہٰذاسپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور رہائشیوں کو متبادل اراضی الاٹ کرنے اور ملکیتی حقوق دینے کا حکم دیا جائے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اوبامہ کو ابھی اختیار نہیں کہ وہ ایک کھوکھا بھی کسی شہری کو الاٹ کریں مگر پنجاب میں شہریوں کو سرکاری اراضی ایسے ہی الاٹ کر دی جاتی ہے۔سپریم کورٹ سامنے کسی سطح پر وزیر اعلیٰ کے سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کے اختیارات سے متعلق کوئی سامنے آیا تو عدالت ان اختیارات کو ختم کرنے کا اصول طے کر ے گی۔ عدالت نے نظرثانی کی غیرضروری درخواست دائر کرنے پر درخواست گزار کو 10ہزار جرمانہ کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…