بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں سے پھانسی پانے والوں کا معاملہ،سپریم کورٹ نے ریکارڈ طلب کرلیا

datetime 16  جون‬‮  2015 |
ISLAMABAD, PAKISTAN - DECEMBER 15: Pakistani policemen stand guard at the Supreme Court on December 15, 2007 in Islamabad, Pakistan. President Pervez Musharraf ended Pakistan's six-week-old state of emergency on Saturday and swore in the new chief justice of the Supreme Court. The move comes weeks ahead of parliamentary elections scheduled for January 8, 2008, which critics and opposition parties have charged my be deeply flawed. (Photo by John Moore/Getty Images)

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے پھانسی پانے والوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ نظام کو ٹھیک کرنے کے بجائے آئین بالائے طاق رکھنا درست نہیں۔ منگل کو چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں فل کورٹ اٹھارویں،اکیسویں آئینی ترامیم،فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی لاہور ہائیکورٹ بارکے وکیل حامد خان نے اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد پکڑے جائیں تو ان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہونا چاہیے،عالمی معاہدوں کے تحت عدالتی کارروائی کو خفیہ نہیں رکھا جا سکتاجس پرجسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نظام درستگی کے بجائے آئین کو بالائے طاق رکھنا درست نہیں لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایسویشن کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی ملٹری کورٹس کے قیام کا ذکر نہیں۔ سپریم کورٹ کا بھی یہی کہنا ہے کہ ملٹری کورٹس آئین کا حصہ نہیں جسٹس جواد خواجہ نے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں تفتیش کی نااہلی اہم مسئلہ ہے ان عدالتوں میں نہ گواہ آتا اور نہ پراسیکیوٹر ۔انہوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل بتائیں کس قانون کے تحت ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں آیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا آرمی چیف اگر پانچ افراد کو پھانسی کی منظوری دے دیں تو کیا ملٹری کورٹس میں جونیئر افسر اس کے خلاف جاسکتے ہیں ؟چیف جسٹس نے سوال کیا کہ فرض کریں اگر ملٹری کورٹس بن جاتی ہیں تو کیا آپ کو شفاف ٹرائل کا تحفظ حاصل ہو گا؟جسٹس فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر آئین میں کہیں بھی ملٹری کورٹس کے قیام کا ذکر ہو تو وہ ہمیں دکھا دیں۔جسٹس آصف کھوسہ نے ٹرائل کورٹس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تاکہ اس کے معیار کا جایزہ لیا جاسکے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملٹری کورٹس کا مکمل طریقہ کار جمع کرادیا ہے۔ بعد ازاں فل کورٹ نے اٹارنی جنرل سے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چھ مجرموں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…