منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نماز کیلئے پندرہ ،بیس منٹ کاروبار بند رکھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا،سردار یوسف

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں نظام صلوة کو موثر بنانے کیلئے وزار ت مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی کی جانب سے نظام صلوة کنونشن کا انعقاد کیا گیا ، کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی سردار یوسف نے کہا کہ ہمارے اس کنونشن کا مقصد نظام صلوة کو عملی جامہ پہنانا ہے ،تاجر برادری کو نماز کے وقفہ کیلئے پندرہ یا بیس منٹ کاروبار بند رکھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا،نظام صلوة کے نفاذ میں علماءکرام نے بہترین رہنمائی کی،نظام صلوة کمیٹی کے ارکان نے 13نکات پر اتفاق رائے کیا ،نظام صلوة کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق اس نظام پر عمل کروا رہے ہیں ،اسلام آباد کیلئے وزارت مذہبی امور نے نظام صلوة کے حوالے سے کیلنڈر بھی ترتیب دیا ہے جو کہ اسلام آباد کی ساری مساجد میں پہنچا دیا گیا ہے ،اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی نظام صلوة پر عمل درآمد ہو گا ،وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی پیر امین الحسنات نے کہا کہ نماز کا ذکر قرآن پاک میں سب سے زیادہ مرتبہ آیا ہے اس لئے ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ نماز کو مقرر کردہ وقت پر ادا کریںہمارا مقصد نظام صلوة کو مزید موثر بنانا ہے ،اس نظام کی بہتری کیلئے آگے بڑھ کر ہمارا ساتھ دیں اگر رمضان المبارک میں ہم نے اس نظام پر عمل درآمد نہ کیا تو اس نظام کو آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا ،نماز اور مسجد ہماری زندگی کا حصہ ہیں،تفصیلات کے مطابق گزشتہ رو ز کنونشن سینٹر اسلام آباد میں نظام صلوة کنونشن منعقد کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی سردار یوسف نے کی کنونشن میں وزارت مذہبی امور کی جانب سے نظام صلوة کے نفاذ کیلئے بنائی گئی دس رکنی کمیٹی کے ارکان سمیت اسلام آباد بھر کی مساجد کی خطبائ،نائب خطبائ، موذن، مساجد کمیٹیوں کے صدور، تاجربرادری ،سی ڈی اے مزدور یونین کے صدر سمیت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے بھی شر کت کی، کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نظام صلوة کمیٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ نظام صلوة کو اصل معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے اور اگر اس نظام میں کوئی کمی بیشی ہے تو اس باہمی مشاورت سے دور کی جا سکتی ہے ،وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی پیر امین الحسنات نے کنونشن کے آغاز میں افتتاحی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے تمام مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ آگر ہم نے نظام صلوة پر عمل درآمد نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی اس لئے نظام صلوة کو آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں اس مو قع وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم اہنگی سردار یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور کا تعلق علماے کرام سے ہے علماءکرام نے ہر موقع پر ہماری بہترین رہنما ئی کی ہے نظام صلوة کمیٹی کے علماءنے کافی محنت کے بعد13نکات پر اتفاق رائے کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اذان اور نماز کے اوقات کا رکا فیصلہ کیا وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مساجد میں خواتین کی نماز کیلئے بھی مناسب انتظامات کئے جائیں اور اگر اس سلسلے میں حکومت کی مدد درکار ہے تو ہم ہر قسم کی مدد کیلئے تیار ہیں رویت ہلال کمیٹی کت ساتھ مل کر ایسا نظام وضح کریں گے کہ پورے پاکستان میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہو سکے سود سے پاک بینکاری کیلئے ہم اسٹیٹ بینک کی کمیٹی کو تجاویز دے رہے ہیں تاکہ ہمارا بینکاری نظام سود سے پاک ہوسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…