منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کی دفاع سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فوجی قیادت پر تنقید سے متعلق متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے بیان کے خلاف ایک زبانی مذمتی قرار داد منظور کی ہے، جبکہ اس کمیٹی میں شامل ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ا±ن کے قائد کے بیان کے خلاف اس طرح کی تحریک لانے کے لیے یہ مناسب فورم نہیں ہے۔حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی راحیل اصغر کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے فوجی قیادت سے متعلق الطاف حسین کے بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں الطاف حسین کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔تاہم ا±نھوں نے الطاف حسین کی طرف سے اس بیان کے بعد معافی مانگنے کو خوش آئند قرار دیا۔اجلاس میں موجود دیگر ارکان نے بھی الطاف حسین کے بیان کی بھی مذمت کی اور اس بیان کے بعد ا±ن کے خلاف زبانی مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سنجے پروانی نے کہا کہ اس طرح کی قراردادیں لانے کے لیے یہ مناسب فورم نہیں ہے، جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں منتخب ارکان موجود ہیں اور ایسی قرارداد لانے کے لیے یہی مناسب فورم ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے فوجی قیادت سے متعلق الطاف حسین کے بیان کی شدید مذمت کیسیکرٹری دفاع عالم خٹک کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت سے متعلق فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جو بیان دیا ہے وہی بیان وزارت دفاع کا بھی ہے۔ ا±نھوں نے کہا کہ ایسا بیان دینے پر ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ا±دھر پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت نے بھی الطاف حسین کے بیان کے خلاف قرارداد جمع کروائی ہے جس میں فوجی قیادت سے متعلق ایم کیو ایم کے رہنما کے بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس سے پہلے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی پنجاب اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرار جمع کروائی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔اس سے پہلے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے بیان کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں جبکہ سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش نہیں ہونے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…