منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مارکیٹیں بند کرنے کا معاملہ ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کر لیا

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

اسلام ا باد ( نیوز ڈیسک) اسلام ا باد انتظامیہ کے پاس دکانیں بند کروانے کا سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ، درخواست گزار کے موقف پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کرانے کے حکومتی احکامات کیخلاف حکم امتناع کی درخواست پر ڈپٹی کمشنر سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اسلام اباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام اباد میں کاروباری مراکز رات اٹھ بجے بند کرانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسلام اباد انتظامیہ کے پاس دکانیں بند کرانے کا کوئی سرکاری نوٹی فیکیشن نہیں صرف زبانی احکامات پر انتظامیہ دکانیں رات اٹھ بجے بند نہیں کراسکتی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اسلام اباد انتظامیہ کا یہ اقدام زبردستی کسی کی پراپرٹی میں گھسنے کے مترادف اور مجرمانہ فعل ہے ، اس لیے دکانیں رات اٹھ بجے بند کرانے کا حکومتی فیصلہ کالعدم قرار دے کر حکم امتناع جاری کیا جائے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام اباد کو طلب کر لیا۔

مزید پڑھئے:خواتین کی وہ ایجادات جنہوں نے دنیا بدل دی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…