پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایکوا ڈور میں گرفتار پاکستانی سے متعلق دستاویزات کے لئے درخواست

datetime 2  اپریل‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سجادعلیشاہ کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے ایکوا ڈور میں گرفتار پاکستانی شہری کو ضروری دستاویزات فراہم کرنے کے متعلق سے درخواست پر ہوم ڈپارٹمنٹ سندھ، جیل حکام اور دیگر کو 9اپریل کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ذیشان حبیب نے ایکوڈور میں گرفتاراپنے بھائی کی رہائش کے لیے ضروری دستاویزات کی فراہمی کے متعلق عامر منصوب قریشی ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ اسکے بھائی رضوان حبیب علوی کو 2004ء4 میں برطانیہ میں کروڑ پتی شہری کوقتل کے الزام میں 18سال قید سنائی گئی تھی،ملزم نے کچھ عرصے برطانیہ کی جیل میں قید گزاری، بعدازاں 2009ء4 میں کراچی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا۔قانون کے مطابق ملنے والی معافیوں کے باعث رضوان علوی ایک سال بعد ہی رہا ہوگیا، رہائی کے بعد بیرون ملک جاتے ہوئے ایکوڈورو میں گرفتار کرلیا گیا، اسے برطانیہ میں ہونیوالے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو سراسر غیرقانونی ہے جبکہ وہ اپنی قید مکمل کرچکا ہے اس لیے درخواست گزار بھائی کی رہائی کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے، اس مقصد کے لیے اسے اپنے بھائی کے برطانیہ سے پاکستان منتقل کیے جانے اورکراچی سینٹرل جیل میں قید کا ریکارڈ درکارہے۔
متعلقہ حکام نے مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کی درخواست میں سیکریٹری ہوم، ا?ئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ کراچی سینٹرل جیل کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی کہ مطلوب مصدقہ دستاویزات فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا تھا کہ وزارت داخلہ میں کچھ ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جوبیرون ملک سے تحویل ملزمان کے معاہدے کے تحت پاکستانی ملزمان کو ملک لے ا?تے ہیں اور سزا مکمل ہونے سے قبل رہاکرادیتے ہیں،اس وجہ سے برطانیہ نے پاکستان سے تحویل ملزمان کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…