پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

صولت مرزا کی اہلیہ نے ایم کیو ایم پر سنگین الزامات لگا دیے

datetime 31  مارچ‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم کے کارکن اور سزائے موت کے قیدی صولت مرزا کی بیوی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پر سنگین الزامات لگا دیے ہیں۔نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے صولت مرزا کی بیوی کا کہنا تھا کہ جب صولت مرزا جیل سے باہر تھا تو وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے رابطے میں تھا ۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاوند کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا ہے کہ اس کے بارے میں یہ کہ دیا ایم کیو ایم صولت مرزا کو نہیں جانتی۔انہوں نے کہا کہ ایک نظریہ کے نام پر ان کے خاوند کا استعمال کر کے انہیں پھینکا گیا۔مچھ جیل میں صولت مرزا کی منتقلی کے بعد ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے خاوند کو ملنے جانا تھا تو ان کو ایم کیو ایم کے رہنماءڈاکٹر نصرت نے انہیں مچھ جانے کا ٹکٹ لے کر دیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ صولت مرزا کے جیل جانے کے بعد ایم کیو ایم کے مزید رہنماءخالد مقبول صدیقی ، قمر منصور ، ڈاکٹر نصرت سمیت متعدد رہنماءان کے ساتھ رابطے میں تھے اور انور عالم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو انہیں فون کر کے بتا دیا جائے  ، وہ ان کی ہر حال میں مدد کریں گے۔

صولت مرزا کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جس ان کے شوہر جیل میں تھے تو ایم کیو ایم کی جانب سے ان کے دور حکومت میں ہر سہولت میسر تھی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ صولت مرزا سمیت ایم کیو ایم کے ہر لڑکے کو جیل کے اندر پان سگریٹ باآسانی میسر تھے اور ان تمام افراد کو جیل میں ہر جگہ فون کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ صولت مرزا کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جیل میں ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کے احکامات کی وجہ سے ان کی اپنے خاوند کے ساتھ ملاقات ان کے کمرے میں کروائی جاتی تھی ۔ ان کی جانب سے بتایا گیا کہ جس صولت مرزا کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد ہوئی تو ان کی رات گئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات ہوئی جبکہ اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ ان سے فون کے ذریعے گورنر سندھ کے ساتھ رابطہ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب چوہدری شجاعت حسین نائن زیرو آئے تھے تو ان کی ملاقات چوہدری شجاعت سے کروائی گئی تھی اور انہوں نے اپنے خاوند کا تمام معاملہ انہیں بتایا تھا۔

صولت مرزا کی بیوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنماﺅں کے ساتھ ہمارے خاندانی مراسم تھے اور تمام رہنماءہمارے گھر ہر خوشی اور غم کے موقع پر موجود ہوتے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب بھی وہ نائن زیرو پر جاتی تھیں تو کارکنان کی جانب سے کہا جاتا تھا کہ ”بھائی “ کے شیر کی فیملی آ گئی ہے ۔انہوں نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے ان کے خاوند کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کیا گیا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی ایم کیو ایم کے خلاف نہ بولتے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی جب مشکل میں پھنسی ہے تو اس نے خود کو بچا لیا ہے اور ان کے خاوند کی قربانی دی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ آخری مرتبہ فروری میں نائن زیرو گئی تھیں لیکن اس کے بعد ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماءفاروق ستار نے انہیں فون کر کے کہا کہ اب ہمارا کام ختم ہو گیا ہے ، ہم نے وکیل لطیف کھوسہ کی فیس بھر دی ہے اب آپ جانیں اور اور آپ کا کام جانے  ، پارٹی کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے صولت مرزا کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے خاوند کو پشیمانی تھی کہ وہ کہاں پھنس گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سے لاتعلقی کر کے ہم پر الزامات لگائے گئے ہیں اور صولت مرزا کا یہی کہنا تھا کہ ان لوگوں پر اعتبار کر کے ان سے بہٹ بڑی غلطی ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صولت مرزا نے ان سے آخری ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ویڈیو بیان اس لیے دے رہے ہیں کہ جو غلطی ان سے سرزد ہوئی وہ کسی اور سے نہ جائے۔جبکہ انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ اس کا کفارہ ادا کریں گے۔صولت مرزا کی اہلیہ نے بتایا کہا انہوں نے اپنے خاوند سے کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ عدالت میں سچ بولیں لیکن ان کے خاوند کا یہی کہنا تھا کہ تم نہیں جانتی اس کے بعد کیا ہو گا۔انہوں نے مقتول شاہد حیات کی بیوی سے اپیل کی کہ ان کے شوہر اب واپس نہیں آئیں گے اس لیے انہیں چاہیئے کہ اکیلے صولت مرزا نہیں بلکہ ان سب کو بھی قانون کے کٹہرے میں لے کر آئیں جنہوں نے شاہد حامد سے لڑائی کی ، جس نے قتل کرنے کا حکم دیا ، اور جس نے انہیں قتل کے لیے اکسایا ۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ صولت مرزا کے علاوہ باقی 4 لوگوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ حکم کس نے دیا اور ساتھ دینے والے کون تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے لڑکے ہیں جو اپنی زبان کھولنا چاہتے ہیں اور بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں کیسے استعمال کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…