اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں ارکان اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت لازمی، اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئی جی کو مراسلہ بھیج دیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2026 |

پشاور (نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے ارکان صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے متعلق طریقہ کار واضح کرتے ہوئے آئی جی پولیس کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کو گرفتار کرنے یا تحویل میں لینے سے قبل اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پولیس حکام کو بھیجے گئے مراسلے میں ’’اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ‘‘ کے تحت طے شدہ قواعد پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے مطابق کسی رکن اسمبلی کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے حراست میں لینے کی صورت میں بھی اسپیکر سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔

مراسلے کے مطابق اگر کسی مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو رکن اسمبلی کی گرفتاری ضروری محسوس ہو تو اسے گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرتے ہوئے اسپیکر سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کے لیے مقررہ فارم کے ذریعے اسپیکر کو درخواست جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس درخواست میں گرفتاری یا حراست کی وجوہات اور متعلقہ تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسپیکر کو عوامی مفاد کے پیش نظر متعلقہ پولیس افسر سے کیس کی رپورٹ یا چالان طلب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

مراسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ عدالت میں چالان پیش کیے جانے سے قبل اسپیکر ضرورت محسوس ہونے پر متعلقہ معاملے کی انکوائری بھی کروا سکتے ہیں۔

اس طرح خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے ارکان اسمبلی کی گرفتاری اور حراست کے معاملات میں اسپیکر کی پیشگی اجازت اور مقررہ قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…