اسلام آباد (نیوز ڈیسک): اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم سعد عباسی کو محض 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں، جن میں ملزم کی نقل و حرکت واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ مارگلہ تھانے کی حدود میں نائنتھ ایونیو پر پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا، جس پر آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر ایس پی سٹی ایاز حسین فوری طور پر کرائم سین پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے گئے۔
تفتیش کے دوران سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پولیس نے ملزم کا تعاقب شروع کیا۔ فوٹیجز سے معلوم ہوا کہ سعد عباسی پہلے غوری ٹاؤن پہنچا، جہاں اس نے اپنے دوست کے گھر کے باہر موٹر سائیکل کھڑی کر کے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ بعد ازاں وہ پیدل گلی سے نکلا، آن لائن بائیک سروس حاصل کی اور قریبی مارکیٹ پہنچ گیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپنے ایک دوست کی فارمیسی پر بیگ رکھا، پھر ایک دکان سے نئی نیلی ٹی شرٹ خرید کر اپنے کپڑے تبدیل کیے تاکہ شناخت سے بچ سکے۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اس ہائی پروفائل مقدمے کی تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ملزم کی تلاش میں سیف سٹی کیمروں، ڈیجیٹل سرویلنس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، 275 سی سی ٹی وی کیمروں اور 137 کال ڈیٹا ریکارڈز (CDRs) سے مدد لی گئی۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت، حتیٰ کہ کپڑے تبدیل کرنے کے مراحل بھی ٹریس کیے گئے۔
آئی جی کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کے دوستوں اور رشتہ داروں کی بھی نگرانی کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم ایک ماہ قبل بھی ایک خاتون کو ساتھ لے کر میانوالی گیا تھا، تاہم اس معاملے میں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی تھی اور پولیس تک بات نہیں پہنچی۔
پولیس نے اس معلومات کی بنیاد پر میانوالی، ایبٹ آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں ٹیمیں روانہ کیں، جبکہ اسلام آباد میں بھی متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ حکام کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے موبائل سم بند کر دی، متبادل آئی پی کے ذریعے رابطہ رکھا اور اسکائی ویز کے ذریعے لاہور جانے کا ٹکٹ بھی خرید لیا، مگر پولیس مسلسل اس کی نگرانی کرتی رہی۔
تحقیقات کے مطابق آن لائن بائیک سروس کے ڈرائیور سے پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے ملزم کو فیض آباد انٹرچینج کے قریب اتارا تھا۔ اس اطلاع کے بعد پولیس نے موٹر سائیکل، فارمیسی اور فیض آباد سمیت مختلف مقامات پر الگ الگ ٹیمیں تعینات کر دیں، جبکہ لاہور پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا۔
شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ملزم نے نامعلوم نمبر سے اپنے دوست کو فون کر کے موٹر سائیکل واپس لینے کی اطلاع دی۔ کچھ دیر بعد اس نے فارمیسی والے دوست سے بھی رابطہ کیا اور اپنا بیگ منگوانے کا کہا، جس میں اس کے کپڑے اور پستول موجود تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے پہلے ایک بچے کو بیگ لینے کے لیے بھیجا، لیکن جیسے ہی بیگ اس تک پہنچنے لگا، پہلے سے موجود پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے سعد عباسی کو گرفتار کر لیا، یوں چند گھنٹوں میں یہ اہم مقدمہ ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کی مدد سے حل کر لیا گیا۔



















































