اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

ایران امریکا تکنیکی مذاکرات میں تعطل آگیا، پہلے دور کے بعد دوسرا دور شروع نہ ہوسکا

datetime 22  جون‬‮  2026 |

برگن اسٹاک(این این آئی)پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان برگن اسٹاک میں جاری تکنیکی مذاکرات میں تعطل آگیا ہے،

پہلے وقفے کے بعد دوسرا دور شروع نہ ہوسکا،ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کی براہ راست دھمکی پر احتجاج کیا اور مذاکرات کے مقام سے چلے گئے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکی پر امریکی وفد سے براہ راست احتجاج کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد احتجاجاً شرکت سے انکارکردیا۔ پریس ٹی وی نے رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وفد نے امریکی عہدیداروں کے سامنے اعتراض کیا اور اس وقت ٹرمپ کی زبانی دھمکی کا مناسب جواب دینے کے لیے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایرانی نیم سرکاری خبرایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایرانی وفد ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر احتجاجاً امریکی وفد سے مذاکرات کے مقام سے دور چلا گیا ہے۔قبل ازیں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کیلئے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے مذاکراتی عمل کے آغاز سے قبل گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی بصیرت افروز اور نہایت متحرک قیادت کے باعث یہ اجلاس ممکن ہوا۔ انہوںنے کہاکہ میرا خیال ہے کہ ہماری بہت مفید گفتگو ہو گی اور امید کرتا ہوں کہ یہ آنے والے وقت میں نہایت نتیجہ خیز پیش رفت کا باعث بنے گی۔۔انہوںنے کہاکہ اس سارے عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے جنھوں نے اس کے لیے انتھک محنت کی۔شہباز شریف نے کہاکہ میں امید کرتا ہوں کہ جب ہم واپس جائیں تو ہمارے پاس ایک معاہدے کی زبردست دستاویز ہو۔انہوںنے کہاکہ ہم مل کر دنیا میں اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے لیے فعال کردار ادا کیا، امریکا اور ایران میں ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بار پھر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ اس سارے معاملے میں ان دونوں شخصیات کا کردار بہت شاندار رہا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا ہے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ عاصم منیر اگرچہ ایک عسکری قائد ہیں لیکن انھوں نے دکھایا ہے کہ وہ بہترین سفارتکار بھی ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہمارے ساتھ ہیں اور پاکستان کا مثبت کردار دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی دوست ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور امریکا کے دیرینہ تعلقات اور سیکیورٹی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم مستقبل کے لیے مزید بہتر کام کرنا چاہتے ہیں، امن کے لیے ایران کے مثبت کردار کے خواہاں ہیںامریکی نائب صدر نے کہا کہ جب سے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسلام آباد میں میرا استقبال کیا ہے اس کے بعد سے میں از راہ مذاق یہ بات کرتا رہا ہوں کہ میری زندگی میں 2 اہم ترین شخصیات میں سے ایک بھارتی ہے اور ایک پاکستانی، بھارتی شخصیت تو میری اہلیہ ہیں جبکہ پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔جے ڈی وینس نے کہا کہ مشرق وسطی میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے،

لبنان کی صورتحال پر تشویش ہے، امریکی صدر لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں متعدد مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ اب ہم ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن و خوشحالی کیلییکام کریں، ٹرمپ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم نئی شروعات کریں اور ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں، آج امن، ترقی اور بحران کے خاتمے کے لیے عظیم دن ہے۔جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کیلئے تیار ہے۔انہوںنے کہاکہ صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران اپنے جوہری عزائم کو ترک کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور علاقائی استحکام کا محرک بنے اور ایسا ہو جائے تو امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت تبدیل کر سکتا ہے۔امریکی نائب صدر نے کہا کہہ یران علاقائی ممالک کیلئے عدم استحکام کا باعث بنتا رہا ہے لیکن اب ایک نئی اور مثبت تصویر سامنے آ رہی ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ تکنیکی کی سطح کے مذاکرات کے دوران تمام اختلافات دور نہیں ہوں گے لیکن یہ ٹیموں کی سطح پر ہمیں ایک ساتھ بیٹھنے کا تاریخی موقع فراہم کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے کچھ گھنٹوں میں اچھی بات چیت کی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آنے والے گھنٹوں میں ہم مزید پیش رفت کریں گے۔اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی و امریکی وفد نے الگ الگ ملاقات کی جس میں امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی گئی ۔ اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کیلئے سوئٹرزلینڈ پہنچے جہاں مذاکرات سے قبل ان کی ملاقات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے ۔سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بغل گیر ہوئے، ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ملاقات سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف بھی کیا۔ اس حوالے ہونے والے سوال کے جواب میں جے ڈی وینص نے پرجوش انداز میں جواب میں دیتے ہوئے کہا کہ وی لو پاکستان۔ بعدازاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے قبل پاکستانی اور ایرانی وفد نے بھی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقات کی ۔ایران کی جانب سے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔

پاکستانی اور ایرانی وفود کی ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفود کے ہمراہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ پہنچے ہیں، امریکہ اور ایران کے وفود بھی پہنچ چکے ہیں، قطر بھی شریک ہوگا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت پر عملدرآمد کی حمایت اور اس کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ مفاہمت پرعملدرآمد کیلئے کردار جاری رکھے گا۔دوسری جانب قطری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امید ہے یہ ملاقاتیں مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات کیساتھ جامع اور مستقل معاہدیکاباعث بنیں ۔بیان میں کہا گیا کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خصوصی تکنیکی ماہرین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جو مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر بات چیت کررہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کے لیے فالو اپ گروپ بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے تمام عمل کی نگرانی کررہے ہیں قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ قطر اور پاکستانی ثالث دونوں فریقوں کو مذاکرات کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کررہے ہیں کیونکہ بات چیت اور سفارتکاری ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے۔قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…