کراچی (این این آئی) انمول عرف پنکی کیخلاف قتل کے مقدمے سے متعلق تفصیلات منظرعام پر آگئیں، 7 اپریل کو ہونے والی موت کا مقدمہ 9 مئی کو درج کروایا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف درج قتل کے مقدمے کی چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، جس میں ملزمہ کے منشیات بیچنے کے برانڈڈ انداز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔مقدمے کے مدعی آٹو مکینک محمد شیر نے بغدادی تھانے میں بیان درج کرایا، جس میں کہا گیا کہ 7 اپریل کو لیاری کے علاقے حاجی پیر محمد روڈ کے قریب فٹ پاتھ سے ایک نشے کے عادی شخص کی لاش ملی تھی، جب لاش کی تلاشی لی گئی تو متوفی کے ٹرازر سے ایک سنہری (گولڈن) رنگ کی چھوٹی ڈبیا برآمد ہوئی، جس نے تفتیش کا رخ موڑ دیا۔
پولیس کو ملنے والی اس سنہری ڈبیا پر ملزمہ کا نام اور ایک چیلنجنگ جملہ درج تھا۔ ڈبیا پر تحریر تھا: کوئن میڈم پنکی ڈان نام ہی کافی ہے، انجوائے۔مقدمے میں کہنا تھا کہ اس ڈبیا میں نشہ آور چیز موجود تھی اور اس پر دل کے نشانات بنے ہوئے تھے، جب علاقے میں معلومات حاصل کی گئیں تو پتہ چلا کہ انمول پنکی نامی خاتون یہ نشہ فروخت کرتی ہے جس کے استعمال سے مذکورہ شخص کی موت واقع ہوئی۔7 اپریل کو ہونے والی اس موت کا باقاعدہ مقدمہ 9 مئی کو بغدادی تھانے میں درج کیا گیا۔مدعی محمد شیر کا کہنا ہے کہ وہ اس غیر قانونی دھندے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تھانے آیا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ اس مقدمے کی روشنی میں انمول پنکی سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے، یہ مقدمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات فروشی میں ملوث تھی بلکہ وہ اپنی شناخت کو ایک ڈان کے طور پر برانڈ کر کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی تھی۔



















































