بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی پالیسی مزاحمت کی ہے اور وہ مسلح جدوجہد کرنا چاہتے ہیں

datetime 19  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آمد کے اعلان پر کہا ہے کہ اگر وہ صرف ملاقات کیلئے آئیں گے تو حکومت پروٹوکول کے ساتھ مہمان بنا کر ملاقات کروائے گی۔ایک انٹرویومیں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو حکومت کو ان سے پہلے طے کرنا ہوگااگر صرف ملاقات کیلئے آئیں گے تو حکومت پروٹوکول کے ساتھ مہمان بنا کر ملاقات کروائے گی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے والد سے دو یا تین بار ملاقات کریں اور پھر واپس چلے جائیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھی قانون کے تحت صرف ملاقات کریں گی تو اجازت دی جائے گی۔وزیر اعظم کے مشیر نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان میں سکیورٹی سب سے اہم ایشو ہوگا، خدانخواستہ وہ یہاں آ کر کسی ریلی میں جائیں اور نقصان ہو تو یہ ملکی بدنامی کا باعث بنے گا، اگر یہ ریلی جلوس میں جانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اجازت نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات کیلئے جائیں تو ان کو قانون کے مطابق اس کی اجازت دی جائے گی، جیل اتھارٹیز واضح اور حکومت کی بھی تائید ہے کہ جیل رولز اور ہائیکورٹ آرڈر پر ملاقات ہو۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کی جو پالیسی ہے وہی ان سب کی ہے یہ ان سے آگے پیچھے ہونے کی سوچ نہیں رکھتے، بانی پی ٹی آئی کی پالیسی مزاحمت ہے وہ مسلح جدوجہد کی طرف جانا چاہتے ہیں، 25 مئی، 9 مئی، 26 نومبر 2024 ہو یا 2025 میں جو پروگرام تھا وہ مسلح جدوجہد ہی تھا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ کر جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب رائیگاں جائے گا، صورتحال خراب ہوگی تو حکومت غور کر سکتی ہے کہ عمران خان کو کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ صبح 150 لوگ آتے ہیں اور پھر رات کو 50، 40 لوگ رہ جاتے ہیں۔پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ یہ پہلے بھی لابیز کرتے اور بیانات حاصل کرتے رہے ہیں مگر اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس سے پہلے امریکا میں الیکشن میں یہ بڑی لابی کر چکے ہیں، پھر کانگریس مین سے لابی کر چکے ہیں، یہ امریکا میں ایک قرارداد پاس کرانا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے اور مثبت اثر نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…