پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

چیف جسٹس کو قانون ،انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ،قوم امن کی طرف دیکھ رہی ہے، عمران خان

datetime 10  فروری‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی) بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے کہنا چاہتا ہوں قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے،چیف جسٹس کو قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، ملک میں منافقت کی جمہوریت ،تنقید کو غداری بنا دیا جاتا ہے، میڈیا کنٹرولڈ ،احتجاج اور جلسے بھی نہیں کرنے دیئے جاتے۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ آرمی چیف کو دو خط اس لئے بھیجے کہ جو بھی جمہوری راستے تھے وہ سب ختم کردیئے گئیخ پہلے سینسرشپ تھی اب پیکا بھی آگیا، سوشل میڈیا کو بھی روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ فنکشنل نہیں ہے، یہ فراڈ پارلیمنٹ ہے۔

وزیراعظم، صدر اور وزراء جعلی ہیں، پارلیمنٹ سے کوئی امید نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے کہنا چاہتا ہوں قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے،چیف جسٹس کو قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی امید نہیں تھی کہ حکومت سے بات چیت کامیاب ہوگی، ہم نے 8 فروری کا نہیں کہا، صرف 9 مئی اور 26 نومبر کیلئے جوڈیشل کمیشن کا کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے صرف دو مقاصد ہیں ایک 8 فروری کی دھاندلی نہ کھلے جبکہ دوسرا مقصد یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو جیلوں میں رکھیں، ایسے میں بات چیت کا کیا فائدہ؟ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں میں نے اپنی ٹیم کو بھی کہہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت آج ختم ہو چکی ہے، اس وقت منافقت کی جمہوریت ہے اور تنقید کو غداری بنا دیا جاتا ہے، میڈیا کنٹرولڈ ہے، احتجاج اور جلسے بھی نہیں کرنے دیئے جاتے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 142 میں سے 140 میں نمبر پر ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا قتل عام کردیا گیا ہے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…