منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ نہیں سمجھتے تو کل آپ کا گریبان اور ہمارا ہاتھ ہوگا،مولانا فضل الرحمن

datetime 18  جنوری‬‮  2025 |

چار سدہ (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اگر آپ نہیں سمجھتے تو کل آپ کا گریبان اور ہمارا ہاتھ ہو گا،یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں، ملک بناتے وقت اسلام کے نام پر لوگوں نے قربانیاں دیں،یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں امن چاہتے ہیں، ہم آج تک آپ سے نرم لہجے اور دلیل سے بات کرتے ہیں،آپ ہماری بات سمجھیں، ایسے انتخابات سے ہمیں نہ ٹرخایا جائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اْڑا رہے ہیں۔ مسلمان کا خون مسلمان پر حرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذہب اسلام کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیرنہیں، صنعت کار، جاگیردار، بیوروکریٹس اور عام پاکستانی کی ایک حیثیت ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں،اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے، ہم اس پاکستان میں امن چاہتے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے دلیل اور محبت سے بالادست قوتوں کو سمجھایا ہے،جھوٹ موٹ اور دھاندلی کے الیکشن سے حسینہ واجد بھی جیتی تھی۔ شرافت سے ہماری بات مان لو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ختم نبوت کے عقیدے کا تحفظ کیا، مدارس پر ہر طرف سے حملے شروع ہو چکے ہیں، مدارس کے خلاف عالمی سازشیں ہو رہی ہیں،دنیا چاہتی ہے کہ مدارس کا سلسلہ ختم ہو جائے جبکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کے باوجود مدارس مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مدارس ختم کرنے کی خواہش اور سازش انگریز وں کی بھی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے نظام حیات بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو بڑی تباہی آتی، حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اورانسانی حقوق کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا، اس میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کیا گیا، اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارا ملک سرتاپا سود میں ڈوبا ہوا ہے،سارے ادارے اور بینک سودی نظام پر چل رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں۔ لوگ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل پر ہما را اختیار ہے،یہ وسائل کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں چھین سکتا،خیبر پختون خوا میں امن و امان یا حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ انہوںنے کہاکہ مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، معیشت کے اشاریوں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوںنے کہاکہ نااہل حکمران بتائیں کہ کیا الٰہ دین کا چراغ ملا ہے؟،حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے تو بتائیں کہ وسائل کہاں سے آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…