ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ بار کا وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا نے گزشتہ روز اسلام آباد کے ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کے خلاف گرینڈ آپریشن پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، سویلین بالادستی کی آواز اٹھائی، سپریم کورٹ بار سفاکانہ اور قابل مذمت اقدام کی طرف آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔

صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطا نے کہا کہ نہتے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے پر انتہائی تشویش ہے، اس طرح کی وحشیانہ طاقت کا استعمال وفاقی وزیر داخلہ کے حکم پر کیا گیا، محسن نقوی سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ آمرانہ ذہنیت کے ساتھ ساری صورتحال کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے تھے، اس بربریت کے نتیجے میں مارے جانے والے ہمارے پاکستانی شہری تھے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے جانی نقصان سے بچایا جاسکتا تھا، وفاقی حکومت سے وزیر داخلہ کا قلمدان کسی عوامی نمائندے کو سونپنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم سے انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔

صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بارہا وفاق پر حملہ کرنے کی کوشش کی، وہ غیر آئینی خواہشات کی تکمیل کے لیے حکومتی وسائل کو بے رحمی سے ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنا صوبہ بدامنی کا شکار ہے جب کہ گزشتہ روز دونوں طرف بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، عام شہریوں کا نقصان ہوا، بغیر کسی تاخیر کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے دل ان لوگوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…