منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ بار کا وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا نے گزشتہ روز اسلام آباد کے ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کے خلاف گرینڈ آپریشن پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، سویلین بالادستی کی آواز اٹھائی، سپریم کورٹ بار سفاکانہ اور قابل مذمت اقدام کی طرف آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔

صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطا نے کہا کہ نہتے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے پر انتہائی تشویش ہے، اس طرح کی وحشیانہ طاقت کا استعمال وفاقی وزیر داخلہ کے حکم پر کیا گیا، محسن نقوی سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ آمرانہ ذہنیت کے ساتھ ساری صورتحال کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے تھے، اس بربریت کے نتیجے میں مارے جانے والے ہمارے پاکستانی شہری تھے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے جانی نقصان سے بچایا جاسکتا تھا، وفاقی حکومت سے وزیر داخلہ کا قلمدان کسی عوامی نمائندے کو سونپنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم سے انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔

صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بارہا وفاق پر حملہ کرنے کی کوشش کی، وہ غیر آئینی خواہشات کی تکمیل کے لیے حکومتی وسائل کو بے رحمی سے ضائع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنا صوبہ بدامنی کا شکار ہے جب کہ گزشتہ روز دونوں طرف بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، عام شہریوں کا نقصان ہوا، بغیر کسی تاخیر کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے دل ان لوگوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…