جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

صدر علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار کو مجروح کیا، کارروائی ہونی چاہیے،بڑا مطالبہ

datetime 21  اگست‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار و تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے اس پر انکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی لیڈرز کی سائفر معاملے پر تفتیش اور گرفتاری سے گھبرا کر صدر نے پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے آئین پاکستان کو با لائے طاق رکھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ ٹویٹ کر دیا جس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ آئین پاکستان کا اِس طرح کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر ) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہکانسٹیٹیوشن آف پاکستان آرٹیکل کے مطابق صدرِ مملکت کو جو بھی بل پارلیمنٹ بھیجتی ہے تو صدر کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں،ایک یہ کے وہ اسے سائن کر دے،دوسرا یہ کے وہ دس دن کے اندر آبزرویشنز لگا کر اپنے سائنز کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھیج دے اور جب پارلیمنٹ اسے بل کو دوبارہ واپس بھیجے تو وہ اسے دس دن کے اندر سائن کرے ورنہ وہ دس دن کے بعد آٹومیٹیکلی قانون بن جائے گا۔

لیکن آج پاکستان کی کانسٹیٹیوشنل ہسٹری میں حیران کن طور پر صدر نے رات کے پچھلے پہر ایک ٹویٹ کر دیا کہ میں نے تو بل کو سائن کئے بغیر سٹاف کو واپس کر دیا تھا اور یہ کہ وہ اِن بِلز سے متفق نہیں ،یہ آئین پاکستان کے مطابق ایک غیر آئینی عمل ہے اور کچھ سنجیدہ سوالوں کو جنم دیتا ہے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صدر نام لے کر یہ بتائیں کہ کس سٹاف کو انہوں نے کب اور کیسے بلز واپس کئے تھے؟، کیا انہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل کے تقاضوں کو پورا کیا اور اگر ایسا کیا تو کیسے انہوں نے بغیر دستخط کئے بلز سٹاف کو تھما دیئے اور کس قانون کے مطابق یہ عمل کیا ۔

اس ریکلیس ایکشن سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیڈرز کی سائفر معاملے پر تفتیش اور گرفتاری سے گھبرا کر صدر نے پارٹی سے وفاداری نبھاتے ہوئے آئین پاکستان کو با لائے طاق رکھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ ٹویٹ کر دیا ہے ،جس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے تاکہ آئین پاکستان کا اِس طرح کا مذاق نہ اڑایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر عارف علوی کے ٹویٹ نے پاکستان کے سپریم آفس کے وقار و تشخص کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جاے کم ہے۔ صدر کا عہدہ پاکستان کی سالمیت اور آین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وفاق کی مضبوطی اور مرکزیت کے علامات سمجھا جاتا ہے ۔

اس ٹویٹ سے دنیا بھر میں پاکستان کا انتہائی منفی پیغام گیا ہے کہ شاید پاکستان میں کوئی دستاویز محفوظ نہیں اور کوئی مراسلہ قابل اعتبارنہیں کہ اس پہ دستخط اصلی ہیں یا جعلی؟ ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر علوی کی اس عہدے کے منافی اور منصب کو داغدار کرنے والی ٹویٹ پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…