جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف سمیت کسی سے بھی مذاکرات کیلئے تیار ہوں ،عمران خان

datetime 23  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف سمیت کسی سے بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں ، تالی دو نوں ہاتھوں سے بجتی ہے،تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، سیاستدان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہیں نہ کہ بندوقوں کے ذریعے

اس وقت پاکستان میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے، یہ جنگل کا قانون ہے،حکومت عدالتوں کا حکم نہیں مان رہی، جب عدالت ریلیف دیتی ہے تو حکومت کوئی پرواہ نہیں کرتی۔برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خدشہ ہے یہاں بات کرنے کو کوئی ہے ہی نہیں، موجودہ صورت حال میں وزیراعظم غیر متعلق ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ان کے بیٹے ان کیلئے فکر مند ہیں، بیٹوں کو نہ صرف ان کے قتل بلکہ جیل میں جانے کا بھی خوف ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں ایک سیاستدان ہوں، آرمی چیف، اسٹیبلشمنٹ سمیت کسی سے بھی مذاکرات چاہتا ہوں لیکن تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے اور مجھے خدشہ ہے یہاں بات کرنے کو کوئی ہے ہی نہیں، ان کے بیان پہلے ہی سوشل میڈیا پر موجود ہیں، بیانات خوفزدہ کرنے والے ہیں، اگر آپ پڑھیں تو وہ کہہ رہے ہیں کہ جو بھی ہو وہ ہر صورت میری پارٹی پی ٹی آئی ختم کر دیں گے، تو پھر آپ کس سے بات کریں گے؟ وزیراعظم کا کوئی تعلق ہی نہیں، یہ بس کٹھ پتلیاں ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاستدان کو ہر وقت کسی کے بھی ساتھ مذاکرات کیلئے تیار رہنا چاہیے، سیاستدان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہیں نہ کہ بندوقوں کے ذریعے، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے اٹھایا گیا، اغوا کیا گیا، تو یہ پولیس نے نہیں آرمی نے کیا تھا، میں نے صرف یہی کہا تھا کہ ان کی مرضی کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا تھا، یہ حقیقت ہے، لیکن میں نے کوئی تضحیک آمیز بیان نہیں دیا۔عمران خان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مجھے گرفتار کیے جانے کا 80 فیصد امکان ہے، بے شک میرے خلاف کوئی کیس نہیں ہے، تمام کیسز میں مجھے ضمانت مل چکی ہے، اس وقت پاکستان میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے، یہ جنگل کا قانون ہے

انہوں نے میری تمام سرکردہ قیادت کو گرفتار کرلیا ہے، درحقیقت 10 ہزار سے زائد پی ٹی آئی ورکرز اور سپورٹرز اس وقت بغیر کسی الزام کے جیل میں ہیں، وہ عدالت سے ضمانت لیتے ہیں اور جیسے ہی جیل سے باہر آتے ہیں انہیں دوبارہ اٹھا لیا جاتا ہے، یہ جو بھی ہو رہا ہے، غیر قانونی ہے، عدالتیں آخری امید ہیں لیکن حکومت عدالتوں کا حکم نہیں مان رہی، جب عدالت ریلیف دیتی ہے تو حکومت کوئی پرواہ نہیں کرتی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…