شہباز شریف نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کر دیا

  بدھ‬‮ 18 مئی‬‮‬‮ 2022  |  17:47

اسلام آبا د(این این آئی)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ پولیو کیسز کی دریافت تشویش ناک ہے،تمام صوبائی حکومتیں انسداد پولیو مہم پر بھرپور توجہ دیں،پولیو کے خاتمے کیلئے متاثرہ علاقوں میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات کیے جانے چاہئیں ،تمام اسٹیک ہولڈرز نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بدھ کو شہبازشریف کی زیر صدارت قومی ٹاسک فورس برائے

انسداد پولیو کا اجلاس ہوا، ملک میں 3 پولیو کیسز کی رپورٹنگ کے بعد وزیراعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء مریم اورنگزیب، عبدالقادر پٹیل، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس، وزیر صحت بلوچستان احسان شاہ، صوبائی چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے جبکہ صوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا تیمور سلیم جھگڑا بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ اس سال اپریل اور مئی میں 3 پولیو کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے جبکہ فروری 2021 تا مارچ 2022 کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے 25 اضلاع پولیو وائرس کے پھیلائو کے حوالے سے ہائی رسک ہیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبائی حکومتیں انسداد پولیو مہم پر بھرپور توجہ دیں۔شہباز شریف نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا اور کہاکہ یہ جان کر افسوس ہوا کہ شمالی وزیرستان میں پولیو ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے متاثرہ علاقوں میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز نے گراں قدر خدمات انجام دیں، تاہم پولیو کا چیلنج ابھی موجود ہے، خاتمے کے لیے سب کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد اور تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں، انسداد پولیو مہم میں تکنیکی اور مالی امداد پر بین الاقوامی اداروں کے شکر گزار ہیں۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎