این سی او سی کے فیصلوں کے تحت ملک کے چار بڑے شہروں میں کورونا پابندیوں کا اطلاق

  بدھ‬‮ 19 جنوری‬‮ 2022  |  14:29

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )این سی او سی کے مطابق کراچی،لاہور، حیدرآباد اور اسلام آباد میں کورونا کی پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔کرونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کہ گنجائش کی اجازت ہوگی، ا1 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے باعث اب تک یہاں کْل 749 مریض وفات پا چکے ہیں۔کورونا وائرس کے بلوچستان میں 33 ہزار 744 مریض اب تک رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 367 افراد اس مرض سے انتقال کر چکے ہیں۔گِلگت


بلتستان میں 10 ہزار 455 کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں،اس سے اب تک 187 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے نئی پابندیوں کا اعلان کردیاجس کے مطابق کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد ، ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کہ گنجائش کی اجازت ہوگی، اور 300 افراد آؤٹ ڈور اجتماعات کر سکیں گے، 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں محدود کی جائیگی ، 12 سال سے کم عمر طلبا 3 دن 50 فیصد آئیں گے، اور 12 سال سے زائد عمر کے اسٹوڈنٹس کی مکمل حاضری ہوگی،احتیاطی تدابیر پر 31 جنوری تک عمل جاری رکھنے اور شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فرروی تک برقرار رہیں گی ۔ بدھ کو این سی او سی 27 جنوری کو دوبارہ اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لے گی۔ بدھ کو وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں این سی اوسی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں کورونا کی موجودہ صورتحال اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں احتیاطی تدابیر پر 31 جنوری تک عمل جاری رکھنے اور شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فرروی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب کہ این سی او سی 27 جنوری کو دوبارہ اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لے گی۔این او سی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیاکہ این سی او سی کی جانب سے 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کہ گنجائش کی اجازت ہوگی، اور 300 افراد آؤٹ ڈور اجتماعات کر سکیں گے، 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں انڈور شادی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جب کہ ان شہروں میں ڈائن ان پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔این سی او سی کے مطابق کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا 12 سال سے کم عمر طلبا 3 دن 50 فیصد آئیں گے، اور 12 سال سے زائد عمر کے اسٹوڈنٹس کی مکمل حاضری ہوگی، تاہم 12 سال کے زائد عمر کی طلبا کیلئے ویکسینیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔این سی او سی کے بیان کے مطابق انڈور جمز کو 50 فیصد فراد کی گنجائش کیساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی، سینما، مزارات اور پارکس میں بھی 50 فیصد افراد کی شرط عائد کی گئی ہے، 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں تمام قسم کی کنٹیکٹ اسپورٹس پر بھی پابندی ہوگی، پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی 70 فیصد افراد کی گنجائش کے ساتھ کام جاری رکھنے کی ہدایات کی گئی ہے، این سی او سی کی جانب سے کاروباری اوقات اور دفاتر کے اوقات کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔


زیرو پوائنٹ

مقام فیض کوئی

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎

میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ یہ 1895ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں‘ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل والٹر میسوری ہڈسن ہارس سے تعلق رکھتے تھے جب ....مزید پڑھئے‎