سپریم کورٹ کا کرک مندر جلائے جانے کیخلاف ازخود نوٹس میں ایک ماہ میں مندر حملہ واقعہ میں ملوث ملزمان سے رقم وصول کرنے کا حکم

  بدھ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2021  |  9:14

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرک مندر جلائے جانے کیخلاف ازخود نوٹس میں ایک ماہ میں مندر حملہ واقعہ میں ملوث ملزمان سے رقم وصول کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ چیف سیکرٹری کے پی ایک ماہ میں تین کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد رقم ہر ملزم میں برابر تقسیم کرکے وصول کریں۔ بدھ کو یہاں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔کے پی حکومت نے ملزمان سے رقم وصول کرنے پر اعتراض اٹھا دیا اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ ابھی ملزمان کیخلاف ٹرائل چل رہا ہے،


اگر ٹرائل کے بعد کوئی فرد بے گناہ پایا گیا تو اس سے وصول کی گئی رقم کا کیا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایڈوکیٹ جنرل صاحب سوچ سمجھ کر بات کریں یہ عدالت کا حکم ہے۔ ہندو رہنما رمیش کمار نے کہاکہ مندر کا راستہ بند کر دیا گیا ہے،کہا جا رہا ہے مقامی علما سے بات کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ علما آئیں گے تو ان سے بھی نمٹ لیں گے۔ ملزم رحمت سلام خٹک نے کہاکہ میں بے گناہ ہوں میرا مندر کو نقصان پہنچانے والوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوںنے کہاکہ سو افراد کو بے گناہ پکڑا گیا ہے،میں تو مندر کو نقصان پہنچانے والوں کو روکتا رہا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پیسے وصول ہو رہے ہیں تو اب آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔رحمت سلام خٹک نے کہاکہ میرے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ عدالت کا حکم ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ مندر کی بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اقلیتی برادری جتنا چاہے اپنی جگہ پر عبادت گاہ کو توسیع دے سکتی ہے،لوگ زمین دیں اور پھر اگر ہندو برادری چاہتی ہے کہ پورے کرک میں مندر بنانا ہے تو بنا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہندو کمیونٹی نے مقامی افراد کیساتھ معاہدہ کر لیا پھر ملزمان کی ضمانت ہوگئی۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہاکہ مندر کی بحالی پر تین کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد کا خرچہ آیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب سب ملزمان پر تین کروڑ تیس لاکھ روپے برابر تقسیم ہونگے تو سب کا دماغ ٹھکانے آجائے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ 22 دسمبر کو ہندو کمیونٹی نے دو جائیدادیں خریدیں،ہندو کمیونٹی نے مقامی افراد کیساتھ معاہدہ کیا کہ خریدی گئی جائیدادوں پر مندر تعمیر نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ معاہدے کی خلاف ورزی پر مقامی افراد اشتعال میں آئے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی۔


زیرو پوائنٹ

پاکستان کے اصل ایٹمی اثاثے

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎