پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا ، پیپلز پارٹی نے انتہائی بڑا فیصلہ کرلیا

  پیر‬‮ 12 اپریل‬‮ 2021  |  12:31

کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارا آج بھی یہی موقف ہے، کل بھی یہی موقف تھا ، استعفے ایٹم بم ہیں، آخری ہتھیار ہونا چاہئے، جس کو استعفیٰ دینا ہے دے دیں لیکن کسی پارٹی کو ڈکٹیٹ نہ کریں، سینیٹ الیکشن میں حصہ لے کر حکومت کا مقابلہ کیا،ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر حکومت کو ایکسپوز کر دیا، ضمنی الیکشن میں عوام نے بتا دیا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں،حکومت اور آئی ایم ایف کی ڈیل


پر ہم مطمئن نہیںہیں، حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ہے، ہم نے پہلے بھی ڈیل پر اعتراض کیا اوراب بھی مذمت کرتے ہیں،پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنا چاہیے۔پیرکوپاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کی گئی۔ اگر آپ کو آئی ایم ایف کیساتھ بندکمرے میں فیصلہ کرنا ہے تو بجٹ بھی وہیں منظور کرائیں، حکومت اورآئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ہے، ہم حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل پر مطمئن نہیں، ہم نے پہلے بھی ڈیل پر اعتراض کیا اور اب بھی مذمت کرتے ہیں، پاکستان کو پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل ختم کرنا چاہیے کیونکہ ڈیل سے پاکستان کے عوام پر بوجھ بڑھ جائے گا۔اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا آرڈیننس ملکی معاشی خودمختاری پر حملہ ہے،ریاستی بینک کو آرڈیننس کے تحت پاکستان کے آئین سے بالاتر کرنا چاہتے ہیں، آرڈیننس سے اسٹیٹ بینک پارلیمان اور عدالتوں کو جوابدہ نہیں ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور کشمیر کے عوام کا تین نسلوں سے رشتہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ کشمیر کے عوام کی آواز اٹھائی ہے۔، ہم نے کبھی کشمیر پرسمجھوتا نہیں کیا اور نہ کریں گے۔ مودی سرکار کشمیریوں پر ظلم کررہی ہے، 5اگست کو مقبوضہ کشمیر میں تاریخی حملہ کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی گئی تو وزیراعظم نے کہا میں کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ جب مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آواز بند کی گئی تو ہمیں بولنا تھا۔ ہم نے کبھی کشمیر پر سمجھوتا نہیں کیا اور نہ کریں گے۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں مقبوضہ کشمیر کا معاملہ شامل تھا۔ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ 5اگست کے اقدام کے بعد وزیراعظم نے کہا میں کیا کروں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں تاریخی حملہ کیا گیا۔ حکومت کی کشمیر پالیسی کنفیوژن اورتضادات پر مبنی ہے۔ وزیراعظم سمیت حکومت بھارت سے بات کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کشمیر پالیسی پر پارلیمان کواعتماد میں نہیں لیاجاتا۔ پارلیمان کونہیں بتایاجاتا کہ بھارت سے تجارت ہوگی یا نہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے معاملے میں غلطی پر غلطی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کبھی کشمیر کا سفیر تو کبھی کلبھوشن کا وکیل بنتے ہیں۔ وزیراعظم نےکشمیرکاز اور معیشت کو نقصان پہنچایا۔ بلاول بھٹونے کہاکہ وزیراعظم سمیت حکومت بھارت سے بات کرنے کی کوشش کررہی ہے، کشمیر پالیسی پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیاجاتا، پارلیمان کو نہیں بتایا جاتا کہ بھارت سے تجارت ہوگی یا نہیں۔پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فیصلے عوام لیں گے۔ پیپلز پارٹی کی کشمیر ایکشن کمیٹی ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھائے گی۔ خارجہ پالیسی کے فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کر کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ صاف شفاف الیکشن کی طرح صافشفاف مردم شماری بھی ضروری ہے ہم کمپرومائز مردم شماری کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ پیپلز پارٹی 2017 سے اس مردم شماری کے طریقے کار کی مخالفت کررہی ہے۔ صاف شفاف مردم شماری چاہتے ہیں۔ 2017 میں ملک بھر سے مردم شماری پر اعتراضات آئے تھے۔ مردم شماری اور صوبائی گنتی میں فرق تھا۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں 5 فیصد دوبارہ گنتی کی جائے لیکن وہ نہیں ہوا، مردم شماری کامعاملہ مشترکہ پالیمانی اجلاس میں لایا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہسیاست عزت اور برابری کے ساتھ کی جاتی ہے،پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور اے این پی سے معافی مانگے۔انہوں نے کہاکہ ہم اے این پی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ان کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ شوکاز دینے کی کوئی مثال پاکستان کی تحریکوں میں نہیں ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تب تو کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا گیا جب پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عمل نہیں ہورہا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے وضاحت کی کہ ہم دوسری جماعتوں کے کہنے پر ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو ساری نشستیں پی ٹی آئی جیت جاتی۔انہوں نے کہا کہپنجاب میں سینیٹ کی 5 نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں معاملہ حل نہیں ہوتا تو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے کہاکہ سی ای سی کا فیصلہ ہے کہ پارلیمان سے استعفے ہمارا آخری آپشن رہے گا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے آخری ہتھیار ہونے چاہئیں۔ استعفے ایٹم بم ہیں، آخری ہتھیار ہونا چاہیے۔


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎