آصف زرداری، فواد چوہدری نااہلی کیسز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینٹ الیکشن سے قبل بڑا قدم اٹھا لیا

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  10:17

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف نااہلی درخواستیں سننے سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیرمین سینیٹ سے رائے طلب کرلی۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق صدر آصف زرداری اور فواد چوہدری نااہلی کیسز پرسماعت کی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ جب متبادل فورم موجود ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے ؟ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ عدالتوں کو ایسے سیاسی نوعیت کے معاملات ملوث نہ کریں، اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی اس معاملے میں رائے لے لیتے ہیں، ہم اسپیکر قومی اسمبلی


، چیئرمین سینیٹ سے پوچھتے ہیں ان کا طریقہ احتساب کیا ہے، اگر پارلیمنٹ خود منتخب نمائندوں کے احتساب کا نظام بنا لے تو معاملہ حل ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کوئی بھی درخواست لائے اور عدالت منتخب نمائندے کی تفتیش شروع کردے۔ہائیکورٹ نے منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف نااہلی درخواستیں سننے سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیرمین سینیٹ سے رائے طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا پارلیمان میں ایسے کیسز حل کرنے کا کوئی فورم موجود نہیں؟، اگر فورم موجود نہیں تو کیا اس پر کوئی قائمہ کمیٹی بنائی جا سکتی ہے؟، منتخب نمائندوں کیخلاف ایسی درخواستیں سننا عدالتوں کا کتنا اختیار ہے؟ ایک وزیر خارجہ کو ہم نے نااہل قرار دیا بعد میں وہ سپریم کورٹ سے بحال ہو گئے، اس دوران ان کے حلقے کے عوام اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رہے۔عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت چھ اپریل تک ملتوی کردی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎