ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا سینیٹ انتخاب سے متعلق سیکریٹ بیلٹنگ کا فیصلہ پیپلز پارٹی نے بھی خاموشی توڑ دی ، ردعمل دیدیا

datetime 1  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد/لاہور(این این آئی)پیپلزپارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا سینیٹ انتخاب سے متعلق سیکریٹ بیلٹنگ کا فیصلہ آئین و قانون کی فتح ہے ،سینیٹ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے انتہائی مقدم ہے ۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے کے بعد ثابت ہوا کہ سینیٹ انتخابات

سے متعلق صدارتی ریفرنس بد نیتی پر مبنی تھا،صدر عارف علوی کو آئین سے متصادم صدارتی ریفرنس پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے ۔سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانا دیوانے کا خواب ثابت ہوا،مارچ کا مہینہ سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کا مہینہ ثابت ہوگا، اپوزیشن عدم اعتماد یا لانگ مارچ سمیت ہر آپشن عوامی طاقت سے استعمال کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے سینیٹ انتخاب سے قبل اسلام آباد پہنچنے سے ایوانِ وزیراعظم پر لرزہ طاری ہے۔واضح رہے کہ ایوان بالا (سینیٹ )کی نشستوں پر امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہو گی،حکومت اوراپوزیشن کے 52اراکین 11مارچ کو اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ سینیٹ کی11 خالی نشستوں پر پنجاب سے تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کیلئے انتظامات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے اور ووٹنگ کیلئے صوبائی اسمبلیوں اورقومی اسمبلی کوپولنگ اسٹیشنزقرار دیاگیا ہے

جہاں ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوگا جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہے گا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اسمبلی سیکرٹریٹ کا کارڈ ساتھ لانا ہوگا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے موبائل فون پولنگ اسٹیشن لانے پر مکمل پابندی

ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی اور جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی ہوگی۔سینیٹ انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیلئے بھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔ 11

مارچ 2021 کو اپنی 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے 65 فیصد سے زائد سینیٹرز کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہے۔103 اراکین سینٹ میں سے 52 اراکین ریٹائر ہورہے ہیں جس میں 34 کا تعلق اپوزیشن جبکہ 18 حکومتی بنچوںسے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق

سینیٹ میں اراکین کے حساب سے سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن)کے موجودہ 30 سینیٹرز میں سے 17 ریٹائر ہورہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے21سینیٹرزمیں8 اپنی 6 سالہ مدت پوری کریں گے۔جمعیت علمائے اسلام (ف)، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

کے 2، 2 ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک، ایک سینیٹر بھی 11مارچ کو ریٹائر ہوں گے ۔حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ 14 سینیٹرز میں سے 7 ریٹائر ہورہے ہیں ۔ایم کیو ایم کے 4 ،بلوچستان عوامی پارٹی کے3 جبکہ 4 آزاد

امیدوار وں کا تعلق سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا)سے ہے۔ایک سینیٹر کی مدت 6 سال ہے تاہم مجموعی تعداد میں سے 50 فیصد ہر 3 سال بعد ریٹائر ہوجاتے ہیں اور نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں، ہر صوبے کے مختلف نشستوںکو پورا کرنے کے لیے

ایک ہی منتقل شدہ حق رائے کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے ساتھ انتخابات ہوتے ہیں۔آنے والا سینیٹ 98 اراکین پر مشتمل ہوگا کیونکہ ملک کے قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا ہ کے ساتھ انضمام کے بعد 4 خالی نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے لہٰذاسینیٹ کے انتخابات ہمیشہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…