منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

نیب نے جان بوجھ کر براڈ شیٹ کو مالی نقصان پہنچانے کی سازش کی،مصالحتی عدالت کے فیصلے کی کاپی منظر عام پر آگئی

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مصالحتی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب نے جان بوجھ کر کسی غیر مجاز فرد کے ساتھ تصفیے کا معاہدہ کرکے براڈشیٹ ایل ایل سی کو مالی نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ روزنامہ جنگ میں واجد علی

سید کی شائع خبر کے مطابق مئی، 2008 میں پاکستانی حکام نے جعلی کمپنی کے سربراہ جیری جیمس کو 15 لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے جو کہ براڈشیٹ کو بلیک میل کررہا تھا۔ لندن کی مصالحتی عدالت کے فیصلے کے بعد براڈشیٹ نے کوانٹم فیصلے کی طرف رجوع کیا اور پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر مجبور کیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کانٹریکٹ کی خلاف ورزی، پاکستان کی جانب سے غلط اداروں کو غیرقانونی ادائیگی سے عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ نیب جان بوجھ کر غلط اقدامات میں ملوث تھا۔ نیب اور براڈشیٹ کے درمیان معاہدہ جون، 2000 میں ہوا تھا اور پاکستان نے اکتوبر، 2003 میں اس کی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے براڈشیٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ کمپنی نیب اور پاکستان کی جانب سے اثاثہ بازیابی معاہدہ ، ایرا جو کہ 20 جون 2000 کو ہوا تھا کا غلط طریقے سے رد کرنے پر پہنچنے والے مالی نقصان کی بازیابی کی حق دار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…