جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ کیس ،احتساب عدالت نے شہبازشریف کے بیٹے ، بیٹی اور داماد کو اشتہاری قرار دیدیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز، بیٹی رابعہ عمران ، داماد ہارون یوسف ،طاہر نقوی اور علی احمد خان کو اشتہاری قرار دیدیا ، عدالت نے نیب کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے

بعد سماعت 3دسمبر تک ملتوی کر کے وکلاء کو جرح کیلئے پابند کردیا ۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی ۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا ۔ فاضل عدالت نے حاضری مکمل کرانے کے بعد سماعت شروع کی ۔ شہباز شریف کے وکلاء کی جانب سے کارروائی موخر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جس پر فاضل جج نے کہا کہ کوئی بات نہیں گواہ موجود ہیں ان کے بیانات قلمبند کر لیتے ہیں آپ جرح نہ کریں ۔نیب کے تین گواہان طیب زوار، خالد محمود اور فیصل بلال بیان دینے کیلئے ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔نیب کے گواہ بلال فیصل نے احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ2019 سے میں بطور ڈپٹی سیکرٹری بجٹ اینڈ اکائونٹس پنجاب اسمبلی تعینات ہوں، نیب لاہور کی جانب سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے حوالے سے لیٹر موصول ہوا جس میں ان کے بطور

ممبر صوبائی اسمبلی دونوں ملزمان کی جانب سے موصول ہونے والی تنخواہوں اور مراعات کا ریکارڈ مانگا گیا جبکہ میں نے دونوں کا ریکارڈ اکھٹا کر کے نیب لاہور کو ارسال کر دیا۔ بعد ازاں نیب لاہور سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا کہ آپ کو ریکارڈ جمع کروانے کیلئے زاتی حیثیت

میں پیش ہونا ہو گا۔ میں نے 29 اپریل 2020 کو تفتیشی حامد جاوید کو نیب لاہور میں اصل اور مکمل ریکارڈ وصول کروایا۔ڈیفنس کونسل کی جانب سے گواہان کے بیان قابل مطالعہ نہ ہونے کی شکایت بھی کی گئی ۔نیب کے گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر صوبائی الیکشن کمیشن خالد

محمود نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہنومبر 2018 سے صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب میں تعینات ہوں۔نیب کی جانب سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے 2008 تا 2017 کے دوران اثاثہ جات کے ریکارڈ کیلئے رابطہ ہوا۔میں نے سرٹیفائیڈ کاپیاں نیب تفتیشی آفیسر کو نیب

لاہور میں فراہم کیں۔ 2008 سے 2017 تک کے ریکارڈ کی سرٹیفائیڈ کاپیاں جو کہ ملزمان کے اثاثہ جات پر مشتمل تھیں نیب تفتیشی آفیسر کے حوالہ کیں اور بیان ریکارڈ کروایا۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر صوبائی الیکشن کمیشن سید طیب زاور نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے سابق وزیر اعلی

پنجاب شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے 2019 کے اثاثہ جات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں بذات خود تفتیشی آفیسر کو 17 مارچ 2020 کو جمع کروائیں۔فاضل عدالت نے پیش نہ ہونے والے ملزمان کے حوالے سے ریمارکس دئیے کہ 30 دن مکمل ہو گئے ہیں لیکن ملزمان عدالت

میں پیش نہیں ہوئے، تمام ملزمان کو بذریعہ اشتہار بھی طلب کیا گیا لیکن پیش نہیں ہوئے جس کے بعد سلمان شہباز، رابعہ عمران، ہارون یوسف، طاہر نقوی اور علی احمد خان کو اشتہاری قرار دیدیا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق نصرت شہباز کی طلبی کے لئے چسپاں کئے گئے اشتہارکے تیس روز مکمل نہ ہونے پر انہیں ابھی اشتہاری قرار نہیں دیا گیا ۔فاضل عدالت نے نیب گواہان کے بیانات پر ملزمان کے وکلا ء کی جرح کیلئے کارروائی 3 دسمبر تک ملتوی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…