کرونا کیسز میں تیزی ملک میں مکمل لاک ڈاؤن سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے اہم اعلان کر دیا

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:04

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اپوزیشن این آر او کے حصول کی مایوس کن کوششوں میں نہایت سفاکیت سے عوام کی زندگیاں اور روزگار تباہ کررہی ہے، واضح کر دوں یہ لاکھوں جلسے کر لیں کوئی این آر او نہیں ملے گا، لاک ڈائون لگانا پڑا تو ذمہ دار اپوزیشن ہوگی ۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر پھیل رہی ہےجو انتہائی تشویشناک ہے، اکثر ممالک میں مکمل لاک ڈاؤن ہے گزشتہ 15 روز میں وینٹی لیٹر پر جانے والے کورونا مریضوں کی تعداد میں ہوشربا


اضافہ ہوا ہے، پشاور اور ملتان میں 200، کراچی 148 فیصد، لاہور 114 فیصد اور اسلام آباد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد اور ملتان کے70فیصدوینٹیلیٹرز زیرِاستعمال ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں لاک ڈاؤن کی طرح کے اقدامات نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ اس سے ایسے وقت ہماری معیشت پر برے اثرات پڑیں گے جب ہم معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے اپوزیشن کا مقصد صرف این آر او کا حصول ہے چاہے اس کے لئے عوام کی زندگیوں اور ملک کی معیشت کو کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ این آراو کے حصول کے لئے اپوزیشن لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش خطرے میں ڈال رہی ہے، میں واضح کرتاہوں کہ اپوزیشن 10 لاکھ جلسے بھی کرلے انہیں آر او نہیں ملے گا، کورونا کیسز اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا، ملک میں مکمل لاک ڈاؤن اور اس کے نتائج کی ذمہ دار پی ڈی ایم کی قیادت ہوگی۔قبل ازیں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ وہی پی ڈی ایم ہے جو سخت لاک ڈاؤن چاہتی تھی، پہلے یہ حکومت پر تنقید کرتے تھے اور اب لوگوں کی صحت کے ساتھ لاپروائی کا سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کورونا پر عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کی جا رہی ہے، جلسہ ایسے وقت کیا جا رہا جب کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎