منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا کیسز میں تیزی ملک میں مکمل لاک ڈاؤن سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے اہم اعلان کر دیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اپوزیشن این آر او کے حصول کی مایوس کن کوششوں میں نہایت سفاکیت سے عوام کی زندگیاں اور روزگار تباہ کررہی ہے، واضح کر دوں یہ لاکھوں جلسے کر لیں کوئی این آر او نہیں ملے گا، لاک ڈائون لگانا پڑا تو ذمہ دار اپوزیشن ہوگی ۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر پھیل رہی ہے

جو انتہائی تشویشناک ہے، اکثر ممالک میں مکمل لاک ڈاؤن ہے گزشتہ 15 روز میں وینٹی لیٹر پر جانے والے کورونا مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، پشاور اور ملتان میں 200، کراچی 148 فیصد، لاہور 114 فیصد اور اسلام آباد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد اور ملتان کے70فیصدوینٹیلیٹرز زیرِاستعمال ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں لاک ڈاؤن کی طرح کے اقدامات نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ اس سے ایسے وقت ہماری معیشت پر برے اثرات پڑیں گے جب ہم معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے اپوزیشن کا مقصد صرف این آر او کا حصول ہے چاہے اس کے لئے عوام کی زندگیوں اور ملک کی معیشت کو کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔وزیر اعظم نے کہا کہ این آراو کے حصول کے لئے اپوزیشن لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش خطرے میں ڈال رہی ہے، میں واضح کرتاہوں کہ اپوزیشن 10 لاکھ جلسے بھی کرلے انہیں آر او نہیں ملے گا، کورونا کیسز اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا، ملک میں مکمل لاک ڈاؤن اور اس کے نتائج کی ذمہ دار پی ڈی ایم کی قیادت ہوگی۔قبل ازیں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ وہی پی ڈی ایم ہے جو سخت لاک ڈاؤن چاہتی تھی، پہلے یہ حکومت پر تنقید کرتے تھے اور اب لوگوں کی صحت کے ساتھ لاپروائی کا سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کورونا پر عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کی جا رہی ہے، جلسہ ایسے وقت کیا جا رہا جب کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…