ایک وزیر نے بتایا ہماری حکومت ختم ہور ہی ہے ، اس حکومت نے ۔۔۔سراج الحق نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:03

سوات( آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک ) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا لیکن اب انہوں نے جھوٹ کو یو ٹرن کا نام دیا ہے۔ حکومت نے قوم کو مایوس کیا ہے، عمران خان کی حکومت میں موت اور عزت سستی ہوگئی ہے۔پوری دنیا ہمارا ملک رسوا ہوا ہے، ہمارے دوست ممالک نے ہم سے منہ موڑلیا ہے، سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات میں بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا یہاں سے ملکی تاریخ کی بدترین نقل مکانی ہوئی


اور 18لاکھ لوگ یہاں سے نکل گئے تھے لیکن ان قربانیوں کے نتیجے میں انصاف کی حکومت نے بھی بے انصافی کی۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا لیکن اب انہوں نے جھوٹ کو یو ٹرن کا نام دیا ہے، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ اگر لوگ میرے خلاف نکل ائے تو میں استعفیٰ دوں گا، آج تو کراچی سے خیبر تک لوگ آپ کی حکومت پر لعنتیں بھیج رہے ہیں۔ اب عمران اپنا وعدہ پورا کرنے کے لئے استعفیٰ دیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا، انہوں نے 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک گھر نہیں بنایا ہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے والے نے 35 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک وفاقی وزیر نے گزشتہدنوں بتایا کہ ہماری حکومت ختم ہو رہی ہے، اس وزیر نے کہا کہ اس حکومت نے ہم سب کو بھی بدنام کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے نام پر اپوزیشن موجود ہے، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے درمیان غریبوں یا کمشنر پر اختلاف نہیں، دونوں میں گھوڑے پر سواری پر اختلاف ہے، پی ڈی ایم میںچند خاندانوں کے مفادات ہیں ، ہم اس ملک کے غریب عوام ، طلباء ، کاشتکاروں اور ماؤں بیٹوں کی بات کرتے ہیں۔ اس ملک میں حکمرانی کا ٹھیکیداری نظام چل رہا ہے اور جماعت اسلامی ایسا نظام نہیں مانتی، جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو چینی اور آٹا چور اسمبلیوں میں پہنچائے جاتے ہیں، اگر عوام اس ملک میں انصاف چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کو اقتدار میں لانا ہوگا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎