بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں سکول کب سے بند کرنے کی تجویز ہے ؟وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت کل تمام اکائیوں کے اجلاس میں تجویز پیش کرے گی کہ سکول بند کر دیے جائیں،نجی ٹی وی کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس سے بڑھتی اموات اور کیسز میں اضافے

کے پیش نظر وفاقی حکومت کل تمام اکائیوں کے اجلاس میں تجویز پیش کرے گی کہ 25 نومبر سے سکول بند کر دیے جائیں۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تجویز ہے کہ کیمپس کے بجائے گھر پر پڑھائی شروع کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ اسکول آئیں، بچے آن لائن پڑھیں اور جہاں آن لائن کا بندوبست نہیں وہاں بچے ایک دن سکول آکر ہوم ورک لے جایا کریں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے صوبے میں تعلیمی ادارے بند نہ کرنے اور موسم سرما کی تعطیلات بھی نہ دینے کا فیصلہ کر لیاہے ۔وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سندھ سید باقر نقوی، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران شریک تھے۔اجلاس میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر این سی او سی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم کی زیرِ صدارت ہونے والے گزشتہ اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا، 23 نومبر تک کے لئے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرنے پر اتفاق ہوا تھا،اب وفاق کی جانب سے 25 نومبر سے 24 دسمبر

تک اسکولز میں بچوں کو بھیجنے کی بجائے گھروں پر تعلیم دینے اور موسم سرما کی تعطیلات 25 دسمبر سے 10 جنوری تک کرنے کا کہا جارہا ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ 25 نومبر سے 24 دسمبر تک اساتذہ کو اسکولز آنے اور والدین کو ہر ہفتے اسکولز سے ہوم ورک لیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں اسکول اور کالجز بند نہیں ہوں گے جب کہ موسم سرما کی تعطیلات بھی نہیں ہوں گی، تعلیمی اداروں میں کورونا سے متعلق ایس او پیز کو مزید سخت کیا جائے گا تاہم جو اسکول آن لائن تعلیم دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے فیصلوں سے این سی او سی کا آگاہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…