ملک بھر میں سکول کب سے بند کرنے کی تجویز ہے ؟وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑا اعلان کر دیا

  اتوار‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  11:29

اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت کل تمام اکائیوں کے اجلاس میں تجویز پیش کرے گی کہ سکول بند کر دیے جائیں،نجی ٹی وی کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس سے بڑھتی اموات اور کیسز میں اضافےکے پیش نظر وفاقی حکومت کل تمام اکائیوں کے اجلاس میں تجویز پیش کرے گی کہ 25 نومبر سے سکول بند کر دیے جائیں۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تجویز ہے کہ کیمپس کے بجائے گھر پر پڑھائی شروع کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ اسکول آئیں، بچے آن لائن پڑھیں اور


جہاں آن لائن کا بندوبست نہیں وہاں بچے ایک دن سکول آکر ہوم ورک لے جایا کریں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے صوبے میں تعلیمی ادارے بند نہ کرنے اور موسم سرما کی تعطیلات بھی نہ دینے کا فیصلہ کر لیاہے ۔وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سندھ سید باقر نقوی، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران شریک تھے۔اجلاس میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر این سی او سی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر بھی غور کیا گیا۔وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم کی زیرِ صدارت ہونے والے گزشتہ اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا، 23 نومبر تک کے لئے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرنے پر اتفاق ہوا تھا،اب وفاق کی جانب سے 25 نومبر سے 24 دسمبرتک اسکولز میں بچوں کو بھیجنے کی بجائے گھروں پر تعلیم دینے اور موسم سرما کی تعطیلات 25 دسمبر سے 10 جنوری تک کرنے کا کہا جارہا ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ 25 نومبر سے 24 دسمبر تک اساتذہ کو اسکولز آنے اور والدین کو ہر ہفتے اسکولز سے ہوم ورک لیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں اسکول اور کالجز بند نہیں ہوں گے جب کہ موسم سرما کی تعطیلات بھی نہیں ہوں گی، تعلیمی اداروں میں کورونا سے متعلق ایس او پیز کو مزید سخت کیا جائے گا تاہم جو اسکول آن لائن تعلیم دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے فیصلوں سے این سی او سی کا آگاہ کیا جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎