ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

چوہدری نثار نے توسیع سے متعلق جنرل(ر) راحیل شریف کا دعویٰ مسترد کر دیا،سابق وزیر داخلہ معاملے پر کھل کر بول پڑے

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ اور سینئر سیاست دان چوہدری نثار علی خان نے سختی سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ انہوں (چوہدری نثار) نے نون لیگ کی حکومت کے دوران شہباز شریف کے ساتھ مل کر انہیں آرمی چیف کے عہدے میں توسیع دینے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ

ہم نے انہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ چوہدری نثار نے 2018ء کے عام انتخابات میں پارٹی کی سینئر قیادت کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے نون لیگ چھوڑ دی تھی۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ مل کر میں نے مسٹر راحیل شریف کو توسیع کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں جب میرے پاس ایسا کرنے کیلئے کوئی اختیار ہے اور نہ ہی وزیراعظم نے اس حوالے سے مجھے کوئی اتھارٹی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذاق تو یہ کہنا ہے کہ ہم نے فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی پیشکش کرنا تو دور یہ ”تجویز“ بھی ہمارے ذہن میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ”شاندار“ تجویز کون سامنے لایا اور اعلیٰ سطح پر سول ملٹری اجلاس میں کس نے کیا کہا تھا؛ اس پر فی الحال بات نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ تو انہوں نے تصدیق کی کہ چار سینئر سویلین شخصیات (وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری نثار اور اسحاق ڈار) کی تین ملٹری عہدیداروں (راحیل شریف کی قیادت میں) سے ملاقات ہوئی تھی جس میں صرف توسیع کے ایشو پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حساس سرکاری معاملات ہیں اور ہمیں ”اِس نے یہ کہا، اُس نے یہ کہا“ جیسی باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ احتیاط یکطرفہ اور ناقص بیانات پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے سے ہی مخدوش حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…