پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کیاواقعی راحیل شریف نے نوازشریف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع مانگی تھی؟ن لیگ کے دعوے پر سابق آرمی چیف بھی میدان میں آگئے سچائی بیان کردی

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا جنرل (ر) راحیل شریف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع مانگی تھی؟ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ہاں مانگی تھی لیکن سابق آرمی چیف اس سے انکاری ہیں۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ

نے کہا کہ نواز شریف نے ان سے کہا تھا کہ راحیل شریف نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے بار ہا ان سے رابطہ کیا تھا اور نواز شریف نے توسیع دینے سے انکار کر دیا۔ اپنی حکومت جا نے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے چند سرکردہ رہنماؤں نے ڈان لیکس اور پاناما پیپرز جیسے اسکینڈلز کو جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دیئے جانے سے جوڑ دیا۔گزشتہ سال اپنے ایک انٹرویو میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو توسیع نہ دیئے جا نے پر ان سمیت پارٹی مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ جا کر جنرل راحیل شریف کو بتایا کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جا رہی۔ اس انکار کے فوری بعد جب ڈان لیکس اور پاناما پیپرز لیکس کے اسکینڈلز سامنے آئے تو انہیں شاطرانہ طریقے سے ہمارے خلاف استعمال کیا گیا۔ جب نواز شریف سے ملاقات کے بعد موقف جا ننے کے لئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے ذریعہ جنرل راحیل شریف سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب وزیر اعظم دفتر میں ملاقات کے بعد وہ جانے لگے تو شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان ان تک پہنچے۔راحیل شریف نے امجد شعیب کو بتایا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے کیونکہ وہ کئی ماہ قبل ہی اپنی تین سالہ مدت مکمل کر

نے کے بعد مزید توسیع نہ چاہنے کا اعلان کر چکے تھے۔راحیل شریف کے مطابق جیسا کہ جنرل امجد شعیب نے بیان کیا کہ مسلم لیگی رہنماؤں کا اس بات پر زور تھا چونکہ ملک اب بھی دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہے، جنرل راحیل شریف نے کراچی کا امن بحال کیا لہٰذا حکومت چاہتی تھی کہ وہ خدمات جاری رکھیں۔امجد شعیب کے مطابق جب راحیل شریف نے دوبارہ ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تو

انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے کی پیشکش کی گئی۔جس پر انہوں نے پھر سے انکار کیا اور وہ کوئی ایسا سربراہی کا علامتی عہدہ نہیں چاہتے تھے جہاں ان کے لئے کر نے کو کچھ نہ ہو۔تب دعویٰ کیا جا تا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے جنرل راحیل شریف سے کہا کہ حکومت فیلڈ مارشل کے عہدے کو با اختیار بنانے پر غور کر رہی ہے۔جنرل راحیل شریف نے امجد شعیب کو بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے طور پر کسی سے اس معاملے پر بات نہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…