ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے 3اہم ترین شہر بھارت کے نشانے پر حملوں کیلئے وقت بھی چن لیا گیا،ثبوت ہاتھ لگ گئے

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارت نومبر اور دسمبر میں کراچی ، لاہور اور پشاور میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق آئندہ آنے والے مہینوں نومبر دسمبر

میں یہ پاکستان میں دہشتگردی کارروائیوں میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ان کی ایجنسیز اور سہولت کاروں کے درمیان کم از کم چار نشستیں ہو چکی ہیں جس میں یہ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر پر حملوں مرکوز کرنے کی کوشش کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواد موجود ہیں کہ را اور ڈی آئی اے جو انکی خفیہ ایجنسیز ہیں وہ پاکستان میں دہشت گردی کو مالی مدد فراہم کر رہی ہیں، دہشت گردوں کی تربیت کر رہی ہیں ، ان کو پناہ دیتے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں جس کا مقصد ریاستی دہشت گردی اور عدم استحکام ہے۔دریں اثنا ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں دہشت گردی کے 87 کیمپ چلا رہی ہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت دہشتگردوں کے تربیتی مراکز کی پشت پناہی کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھارتی ناپاک

عزائم کے شواہد ملے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی ایجنسیاں دہشت گردی کے 87 کیمپ چلا رہی ہیں ،دہشت گردوں کے 66 تربیتی مراکز افغانستان، 21 بھارت میں ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پی سی گوادر پر دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ را افسر انوراگ سنگھ تھا ۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت کا سفر کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر اللہ نذر کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ روابط ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر اللہ نذر اور را حکام کے مابین گفتگو کے آڈیو ٹیپس موجود ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے کندھار میں دہشت گردوں کے کیمپ کیلئے 30 ملین ڈالر لگائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…