پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی مذہب کی توہین ناقابل برداشت ہے، وزیر اعظم کا شنگھائی تعاون تنظیم سے خطاب میں پیغام

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کیلئے نقصان دہ ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے ۔دہشتگردی کو کسی مذہب یا ملک سے جوڑنا صحیح نہیں ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ ماسکو میں

ہونیوالی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کونسل کے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس سے 5 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور کورونا سے پوری دنیا کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی معیشت سست روی کا شکار ہے جبکہ کورونا سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں ایس سی او نے کئی کا میابیاں حاصل کیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں اور جی20 ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کر نی چاہیئے جبکہ اقوام متحدہ کو عالمی طور پر اس چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کام کر نا ہو گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نہ صرف کورونا وائرس کے خلاف چین کے اقدامات کو سراہتا ہے بلکہ چینی امداد کو بھی سراہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کورونا ویکسین کے ٹرائل پر مشترکہ کو ششیں کر رہے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے ڈیجیٹل گلوبل ڈیٹا سکیورٹی اقدام کو سراہتے ہیں،مکمل لاک ڈاوَن ترقی پذیراور ترقی یافتہ ممالک کے لیے نقصان دہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ افغانستان کو مفاہمتی عمل سے بھرپور فائدہ اْٹھانا ہو گا۔ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی انٹرا افغان مذاکرات کا اہم جْزو ہے، میں ہمیشہ افغانستان میں

مفاہمتی عمل کا حامی رہا ہو ں افغانستان کو مفاہمتی عمل سے فائد ہ اٹھانا چاہیئے ،افغان عمل میں روڑے اٹکانے والوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ ے۔ وزیر اعظم نے کہا اس وقت دنیا کو بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے کسی بھی مذہب یا مسلک کو دہشتگردی سے جوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ خطے کے ممالک میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پْر امن طریقہ اپنانا ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان

نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں دہشتگردی کے خلاف دی جانے والی قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چا یئے ، پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے۔ بعض ممالک سیاسی فائدے کے لیے دہشتگردی کا الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت غریب کو ریلیف دینے کے لیے پْر عزم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…