پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کسی کے اشاروں پر ناچنے والواگر ہمیں کچھ ہوا تو ان کے نام فیٹف، انٹرپول اوراقوام متحدہ کو بھیجے جائیں گے ،سرینا فائز عیسیٰ کا صدر مملکت کو خط

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے صدر عارف علوی کو خط لکھ دیا، نجی ٹی وی کے مطابقسرینا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ بطور استاد میں اپنے شاگردوں کو بتاتی ہوں کہ غلطی کا اعتراف کرنے پر معافی مانگ لینی چاہیے،حکومت کی ذمہ داری ہے

کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے،صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے کھلے خط میں جسٹس قاضی فائر عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے مزید لکھا ہے کہ صدارتی ریفرنس کے ذریعے میرے خلاف بدنیتی پر مبنی تضحیک آمیز مہم چلائی گئی، 19 جون 2020 کو آپ کا صدارتی ریفرنس کوڑے دان میں پھینک دیا گیا،میرے شوہر فائز عیسیٰ کو مرزا افتخار الدین نامی شخص نے دھمکیاں دیں,صدر مملکت میرے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تین مرتبہ آپ کو ریفرنس کی کاپی کے خطوط لکھے،لیکن آپ نے ایک بار بھی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔سرینا عیسیٰ نے لکھا ہے کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے ملاقات میں میرے شوہر نے جائیدادوں سے لاتعلقی ظاہر کی،جسٹس کھوسہ نے کہا پھر تو یہ ریفرنس قابل سماعت ہی نہیں مگر اچانک صورتحال تبدیل ہوئی اور ریفرنس میرے شوہر کی پیٹھ پیچھے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا، ریفرنس دائر ہونے کے بعد سابق اٹارنی جنرل نے شہزاد اکبر سے

میرے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کیں۔جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا ہے کہ جناب صدر آپ ایوان صدر میں بیٹھ کر ٹی وی انٹرویوز میں ریفرنس پر وضاحتیں دیتے رہے،میری اور میرے خاندان کی حفاظت اللہ کرے گا،کسی کے اشاروں پر ناچنے والو ہم واضح کرنا چاہتے ہیں اگر ہمیں نقصان پہنچا تو ان کے نام ایف اے ٹی ایف، انٹرپول اور اقوام متحدہ کو بھیجے جائیں گے،طاقتور لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے اگلے جہان اللہ کو جواب دینا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…