نوازشریف ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار شخص ہے، ‎ باغی رکن جلیل شرقپوری نواز شریف پر برس پڑے

  جمعہ‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2020  |  7:18

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا ہے کہ سردار ایاز صادق کے بیان پر دل بہت رنجیدہ اور دکھی ہوا ،ایاز صادق جیسے ذمہ دار آدمی کو ایسا بیانیہ نہیں دینا چاہیے تھا جس سے ملک کا وقار کم ہو اور دشمن خوش ہوا،ان کا بیان سچ ہے یا جھوت قابل مذمت ہے،نواز شریف ذہنی و جسمانی بیماری کا شکار ہیںاس لیے شہباز شریف یا جو بھی بہتر ہے اس کو آگے لایا۔پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگی پاکستان


کے لیے ہیں کسی خاندان کے لیے نہیں،نواز شریف صاحب جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ ذہنی بیماری کا بھی شکار ہو گئے ہیں۔ مجھے ایاز صادق اور نواز شریف کے بیان پر شرمندگی ہے۔ یہ وہ مسلم لیگ ہے جس نے پاکستان بنایا اور بعد ازاں ترقی پر لے کر گئی ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف صاحب کو بھی علاج کی ضرورت ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس اور کوئٹہ جلسے میںماں صاحب کا جو بیان آیا وہ مسلم لیگ اور پاکستان کے حق میں نہیںتھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن کے الزامات سچ یا جھوٹے ہو سکتے ہیں، عدالتوں سے فیصلے غلط بھی ہو جاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ملک کے اداروں کے خلاف بولنا شروع کردیں۔ نواز شریف بتائیں کہ کیا آپ نے ہی ہر دفعہ وزیراعظم بننا ہے ؟، نواز شریف ذہنی و جسمانی بیماری کا شکار ہیں اس لیے شہباز شریف یا جو بھی بہتر ہے اس کو آگے لایاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ایاز صادق نے جو بیانہیہ دیا وہ سراسر زیادتی ہے یہ ہرگز محب الوطنی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم عمران خان کے اندر بھی غلطیاں ہوں گی ۔ مریم نواز ہماری محترم بہن ہیں مگر جو بھی غلطی کرے اسے سزا ملنی چاہیے ۔میاں صاحب کا نعرہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو تو لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیا اس کو بھی عزت دو۔وزیر اعظم عمران خان سے گزارش ہے کراچی سے خیبر تک تمام کسانوں کو مفت بیج دیں، میری سروسز حاضر ہیں،مفت آٹا دیں میں مدد کرنے کو حاضر ہیں۔ صاحب حیثیت بندہ دو سے تین فیصد آٹا مہنگا خرید سکتا ہے مگر غریب کو مفت آٹا دیں۔ میں فارمولہ بنا کر دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے اردگرد کے لوگ ریاست مدینہ کے معانی نہیں سمجھتے، تمام مسالک میں سے علما ئے کرام کو پاس بلائیں اور ان سے ریاست مدینہ کا منصوبہ بنوائیں۔


زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎