ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پیغمبر اسلام ۖکے خاکوں کی اشاعت اقوامِ متحدہ نے بھی خاموشی توڑ دی ، بڑے خدشے کا اظہار

datetime 29  اکتوبر‬‮  2020 |

جنیوا، اسلام آباد (این این آئی، آن لائن )اقوامِ متحدہ کے تہذیبوں کے اتحادسے متعلق یونٹ کے سربراہ میگول اینجل موراٹینوز نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ

کے نمائندے میگول اینجل نے اس صورتِ حال پر کہا کہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور عدم برداشت کے رویوں پر تحفظات ہیں اور اس تمام صورتِ حال کو بغور دیکھا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے فرانسیسی صدر کے خاکوں کے دفاع کے بیان کا ذکر کیے بغیر کہا کہ ایک مذہب کے عقائد پر حملہ کیا گیا جس نے بے گناہ شہریوں کو کارروائیوں پر اکسایا ۔انہوں نے خبردار کیا کہ مذاہب اور مقدس شخصیات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے نفرتیں جنم لیتی ہیں جو معاشرے کی تقسیم اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی کی عدالت نے گستاخانہ خاکوں کی وجہ سے فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کی ایک اور درخواست پرسیکرٹری کابینہ ڈویژن کو یہ درخواست بھی وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت جاری۔کردی۔ شہری کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے کہاکہ پارلیمنٹ نے قرارداد پاس کی وزیر اعظم نے پوری مسلم امہ کو

خط بھی لکھا ہے،پالیسی معاملہ ہے حکومت کو ہی دیکھنا ہے،کیونکہ یہ کوئی ایسا شخص نہیں جس نے یہاں توہین رسالت کی اور ہم اس کے خلاف کارروائی شروع کریں،حکومت کے اقدامات سے لگتا ہے وہ بھی اس معاملے کو سریس لے رہے ہیں،درخواست گزار وکیل طارق اسد نے

کہاکہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کوئی بڑا اقدام نہیں کر رہی،ان کو لگتا ہے اگر ہم نے سفارتی تعلقات منقطع کئے تو فرانس ایف اے ٹی ایف میں ہماری مخالفت کرے گا، ناموس رسالت کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ کون سی پراڈکٹ پر پابندی لگانی ہے ان کے سفیر کے ساتھ کیا کرنا ہے سب حکومت نے دیکھناہے،عدالت نے مذکورہ بالاہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…