جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز کے کوئٹہ پہنچتے ہی ن لیگ کو بڑی کامیابی مل گئی اہم ترین وکٹ اڑا دی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

کوئٹہ،لاہور( آن لائن ، این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے 25اکتوبر کو کوئٹہ میں رکھے گئے جلسے سے قبل حزب اختلاف اتحاد کو صوبے میں اہم کامیابی مل گئی ، جہاں مسلم لیگ ق بلوچستان کے صدر جعفر مندو خیل نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور میں ذاتی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کررہا ہوں۔پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کیلئے کوئٹہ پہنچنے والی مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 15جنوری تک استعفیٰ دے دیں گے ، سیکیورٹی الرٹ کی وجہ سے جلسہ موخر نہیں کرسکتے، حکومت کو اپنا خاتمہ نظر آرہا ہے ، کیا جلسہ موخر کرنے سے سیکیورٹی تھریٹ ختم ہوجائے گا ، سیکیورٹی کے انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی ، نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ بلوچستان کومسلم لیگ ن کی طرف سے ہمیشہ ترجیح دی گئی ، اسی لیے نوازشریف جب وزیراعظم بنے تو بلوچستان کو ترجیح دی۔دریں اثنا جاتی امراء سے کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک میں ملک

کے طول و عرض سے لوگوں کے شامل ہونے کا بڑا اثر ہے اور عمران خان کے انٹر ویو میں اس کے آثار نمایاں تھے، جس انسان کو یہ معلوم ہی نہیں دبائو میں کیا کام کرنا ہے اس کی ایسی حالت ہی ہوتی ہے ،مجھے حکومت کے معاملات زیادہ دیر تک چلتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔

انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی کے صحافی کو اغواء کر لیا گیا ، سنا ہے اس نے کراچی واقعہ کی فوٹیج آن ائیرکی تھی ،یہ قابل افسوس بات ہے ، میرے کمرے پر حملہ کر کے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے آپ نے بدنامی کما لی ہے ، آئی جی کو اغواء کیا گیا ، صوبے کو نیچا دکھایا گیا ۔

صحافی کو اغواء کرکے آپ حق و سچ کی آواز کو دبا نہیں سکتے اس لئے مزید بدنامی نہ کمائیں ، اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔ مریم نواز نے کہا کہ آج لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں، چینی اور آٹا مارکیٹ سے غائب ہے لیکن سلیکٹڈ کی ساری توجہ نواز شریف کے اوپر ہے ۔

اب سمجھ آئی ہے کہ بڑی کرسی پر بیٹھ کر بھی قد چھوٹا ہی رہتا ہے اور اس قدر کو بڑا کرنے کے لئے بڑے لوگوں کے نام لینا پڑتے ہیں اس لئے آپ ہر وقت نواز شریف کے نام کی رٹ لگائے رہتے ہیں، این آر او کی ضرورت اب عمران خان کو ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں سمجھتی ہوں

کہ کراچی واقعہ کی انکوائری کا حق صرف سندھ حکومت کو ہے کسی ادارے کو نہیں، اداروں کو شامل ضرور ہونا چاہیے ،جعلی وفاقی حکومت ہی سہی لیکن آپ وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھے ہو ،آپ کو وزیر اعظم ہائوس کی عزت کیلئے اس میں شامل ہونا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ

میں تو سمجھتی ہوں کہ اس واقعہ کی انکوائری کی ہی ضرورت نہیں اور سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ آپ جب اس پر پردہ ڈالیں گے ، لوگوں کو اٹھا کر شمالی علاقہ جات کی سیر و سیاحت کیلئے لے جائیں گے حقائق تبدیل کریں گے اور غلطیاں چھپانے کی کوشش کریں گے

تو ایسا نہیں ہوگا۔مریم نواز نے کہا کہ سلیکٹڈ کو پتہ ہونا چاہیے کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے، وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے، وہاں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر کوئی وزیر اعظم مسلط نہیں کیا جاتا اور دبا کے تحت ججز سے فیصلے نہیں لیے جاتے۔انہوں نے عمران خان کی

جانب سے نواز شریف کو واپس لانے کے لئے برطانیہ جانے کے بیان بارے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ وہاں جائیں تو انہیں پتہ لگ جائے گا، یہ اپنی جو عزت پاکستان میں کرا چکے ہیں، اگر وہ برطانیہ میں بھی کرانا چاہتے ہیں تو بالکل ایسا کریں۔ایک دفعہ یہ الطاف حسین کو بھی لانے گئے تھے، ان کی بھڑکیںآپ سنا کریں، برطانیہ قانون کے تحت چلنے والا ملک ہے اور وہ اس طرح کی بھڑکوںکو کچھ نہیں سمجھتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…