پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ حکومت نے گندم نہ خود خریدی اور نہ کسی کو خریدنے دی ہائی ویز پر کھلے آسمان تلے موجود اربوں روپے کی گندم خراب ہوگئی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حالیہ بارشوں کے باعث کھلے آسمان تلے موجود اربوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی،روزنامہ جنگ میں رفیق بشیر کی شائع خبر کے مطابق سندھ کے ہائی ویز پر محکمہ خورارک کی لاکھوں بوریاں کھلے آسمان تلے تاحال پڑی ہوئی ہیں اور

کئی کئی جگہ پر موجود ان لاکھوں بوریوں کی حفاظت کا کوئی نظام نہیں ،بارش کے پانی میں بھیگنے کے بعد اس گندم سے بد بو بھی آنا شروع ہوگئی،مارچ میں گندم کی فصل تیار ہوگئی تھی لیکن سندھ حکومت نے گندم کی خریداری پر پابندی عائد کردی تھی اور خود بھی حکومت نے ایک ماہ کی تاخیر سے گندم کی خریداری کی جبکہ ہرسال کی طرح محکمہ موسمیات نے بارشوں کی بھی اطلاعات محکمہ خوراک کو دے دی تھی تاہم محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری کے بعد گندم کو محفوظ کرنے کا کوئی منظم نظام یا طریقہ کار،منصوبہ بندی نہیں کی گئی،جب بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت تک حکومت نے گندم کی خریداری شروع کرکے گندم کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی اور خریدی گئی گندم سڑک کنارے رکھ دی گئیں ۔واضح رہے کہ ملک بھر میں اس وقت آٹے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…