جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

2019 میں ایک کھرب 66 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا انکشاف

datetime 18  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)سال 19ـ2018 کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے ٹیکس وصولیوں میں ایک کھرب 66 ارب ساڑھے 5 کروڑ روپے کے تضاد سے پردہ اٹھایا ہے اور اس تضاد کو رپورٹ میں ”چوری ”کہا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل نے ایک ایسا سسٹم تشکیل دینے کی تجویز دی ہے جو سیلز ٹیکس ریٹرنز کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس ریٹرنز میں فراہم کردہ ڈیٹا میں موجود تضادات کی نشاندہی کرے اور ڈیوٹی، ٹیکس کی وصولی کے علاوہ داخلی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے قانونی دفعات کی درخواست کرے۔رپورٹ میں ان پٹ ٹیکس کے ناقابل قبول دعوؤں کو روکنے اور اس کے سافٹ ویئر سسٹم کو دیگر محکموں کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے سسٹم میں توثیق کی آن لائن نگرانی متعارف کروانے کی تجویز بھی دی گئی تا کہ غیر واضح سرمایہ کاری کی شناخت کی جاسکے۔آڈٹ رپورٹ میں قابل ٹیکس سپلائیز اور سروسز کے 199 کیسز میں ایک ارب 66 کروڑ 47 لاکھ روپے ٹیکس کی عدم وصولی کا انکشاف کیا گیااس کے علاوہ سیلز ٹیکس رینٹرنز اور انکم ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کردہ سیلز ٹیکس میں تضاد کی وجہ سے 77 کیسز میں سیلز ٹیکس کی مد میں 5 ارب 70 کروڑ 60 لاکھ روپے کے کمی سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر 188 کیسز میں حکومت کا مقرر کردہ 5 ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ریونیو وصول کرنے میں ناکام رہا۔اس کے علاہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے قانونی شرائط پوری کیے بغیر 255 کیسز میں ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی

اجازت دی جس سے 5 ارب 65 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 536 کیسز میں 8 ارب 96 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ٹیکس کریڈٹ کی غلط ایڈجسٹمنٹ کی گئی اور 447 کیسز میں 7 ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے کا کم از کم ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 1080 کیسز میں قبضے میں لی گئی اشیا کے عدم تصرف کی وجہ سے 3 ارب 29 کروڑ روپے کی آمدن پھنس گئی اور 6 ہزار 874 کیسز میں 2 ارب 56 کروڑ 3 لاکھ روپے کے ویلیو ایڈیشن ٹیکس کا ادراک نہیں کیا۔اس کے علاوہ 3 ہزار 54 کیسز میں درآمدی اشیا کی غلط کلاسفکیشن کی وجہ سے 89 کروڑ 63 لاکھ 20 ہزار روپے کے ریونیو کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…