ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

جسٹس فائز نے وزیراعظم کو صحیح نوٹس دیا، ہم بھی انہیں نوٹس جاری کریں گے، لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز نے وزیراعظم کو صحیح نوٹس دیا، ہم بھی انہیں نوٹس جاری کرینگے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے کرتارپور سڑک کی تعمیر سے متعلق شکرگڑھ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل، شکر گڑھ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے

ہائیکورٹ بار کے صدر نصراللہ وڑائچ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ یہ کرتارپور پراجیکٹ وفاقی حکومت نے کیسے بنایا، مذہبی عقیدت مند اگر لاہور سے کرتار پور جانا چاہیں تو سڑک کی حالت ہی خراب ہے، آپ نے کوئی نئی جگہ تو نہیں بنائی یہ تو مذہبی جگہ ہے اور ہمیشہ سے ہے، آپ نے تو عقیدت مندوں کو سہولت دینی تھی، یہ پتہ کرکے بتائیں کہ یہ پراجیکٹ وفاقی حکومت نے کیسے لے لیا، کیا وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو فنڈز ٹرانسفر کیے تھے، آپ کمیونیکیشن سے ہیں آپ کو معلوم ہوگا۔افسر کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مجھے علم نہیں ہے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے آئینی معاملات میں مداخلت کررہی ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحیح نوٹس دیا ہے، ہم بھی وزیراعظم سمیت دیگر کو صوبائی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی پر نوٹس جاری کرینگے، یہ تو حکومت کا سب سے بڑا لطیفہ ہوگیا، اربوں روپے یہاں وزیراعظم اور وزیراعلی اپنے ضلع پر خرچ کررہے ہیں، یہ قومی مفاد کی سڑک ہے لیکن یہاں خرچ نہیں کررہے، یہ باتیں تین مہینے سے آپ کی سمجھ میں نہیں آرہیں آج کھل کر کرنی پڑی ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے کرتارپور سڑک کی تعمیر سے متعلق شکرگڑھ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…