سانحہ بلدیہ فیکٹری ، عدالت نے 8 سال بعد تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  14:47

کراچی (آن لائن )کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی ،ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی بری جبکہ حمادصدیقی کو مفرور قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی ، ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایم کیوایم کے رؤف صدیقی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت


جبکہ 4 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کو بری کردیاہے۔تاہم ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حمادصدیقی کو مفرور قرار دے گیا ہے۔کیس کا فیصلہ گذشتہ سماعت پر عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیاتھا۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیںآیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،بلدیہ فیکٹری کیس رحمان بھولا، زبیرچریااوردیگرملزمان نامزد تھے جبکہحماد صدیقی اور علی حسن قادری اشتہاری ہیں جبکہ کیس میں نامزدرؤف صدیقی اور دیگرملزمان ضمانت پر رہا تھے۔ فروری 2017 میں اس کیس میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ کیس میں 768 گواہوں کے نام شامل ہیں، جن میں 400 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎