ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ بلدیہ فیکٹری ، عدالت نے 8 سال بعد تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن )کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی ،ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی بری جبکہ حمادصدیقی کو مفرور قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی ، ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایم کیوایم کے رؤف صدیقی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت جبکہ 4 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کو بری کردیاہے۔تاہم ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حمادصدیقی کو مفرور قرار دے گیا ہے۔کیس کا فیصلہ گذشتہ سماعت پر عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیاتھا۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں

آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،بلدیہ فیکٹری کیس رحمان بھولا، زبیرچریااوردیگرملزمان نامزد تھے جبکہ

حماد صدیقی اور علی حسن قادری اشتہاری ہیں جبکہ کیس میں نامزدرؤف صدیقی اور دیگرملزمان ضمانت پر رہا تھے۔ فروری 2017 میں اس کیس میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ کیس میں 768 گواہوں کے نام شامل ہیں، جن میں 400 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…