منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ملک کو امرا لوٹ کر کھا گئے اور سرکاری ادارے سہولت کار بنے رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کی جانب سے سرکاری زمین قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جمعرات کو سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔

شہری امجد عباسی کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق کیس میں عدالت نے معاملہ نیب کو بھجوانے کا عندیہ دیدیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک سینیٹر کو پوری پہاڑی پر قبضہ کروا دیا گیا جیسے بادشاہ رہ رہا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کوئی سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کوئی کلب اور سوئمنگ پول بنا رہا ہے، شکر ہے غیر قانونی منصوبوں کا وزیراعظم سے افتتاح نہیں کروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اوپر سے فون آجائے تو ضروری نہیں آپ نے وہ کام ہر صورت کرنا ہے، سرکاری زمین پر ذاتی باڑ ایسے لگا لیتے ہیں جیسے یہ انڈیا پاکستان کا بارڈربن گئی ہے۔جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین سینیٹ کو کیس بھیج دیتے ہیں، پارلیمنٹ بھی تو دیکھے ان کے ارکان کر کیا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس ملک کو امرا لوٹ کر کھا گئے اور سرکاری ادارے ان کے سہولت کار بنے رہے۔

جسٹس محسن اختر نے کہا کہ لوگ پہاڑیاں تک اپنے کھاتے میں ڈال گئے، سرکاری زمینوں پر ذاتی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں۔انہوں نے سی ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا بنی گالہ کے سارے گھر غیرقانونی اور گرائے جانے کے قابل نہیں ہیں؟سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا

کہ بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، جس پر جسٹس محسن اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ ہزار کنال زمین ایک سینیٹر کو الاٹ کر چکے ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سینیٹر، چیئرمین سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے خلاف یہ سیدھا سیدھا نیب کا کیس بنتا ہے، ادارے سرکاری زمین کے محافظ ہوتے ہیں، یہ ان کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…