جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک کو امرا لوٹ کر کھا گئے اور سرکاری ادارے سہولت کار بنے رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

datetime 10  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کی جانب سے سرکاری زمین قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جمعرات کو سینیٹر اورنگزیب اورکزئی کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔

شہری امجد عباسی کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق کیس میں عدالت نے معاملہ نیب کو بھجوانے کا عندیہ دیدیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک سینیٹر کو پوری پہاڑی پر قبضہ کروا دیا گیا جیسے بادشاہ رہ رہا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کوئی سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کوئی کلب اور سوئمنگ پول بنا رہا ہے، شکر ہے غیر قانونی منصوبوں کا وزیراعظم سے افتتاح نہیں کروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اوپر سے فون آجائے تو ضروری نہیں آپ نے وہ کام ہر صورت کرنا ہے، سرکاری زمین پر ذاتی باڑ ایسے لگا لیتے ہیں جیسے یہ انڈیا پاکستان کا بارڈربن گئی ہے۔جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین سینیٹ کو کیس بھیج دیتے ہیں، پارلیمنٹ بھی تو دیکھے ان کے ارکان کر کیا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس ملک کو امرا لوٹ کر کھا گئے اور سرکاری ادارے ان کے سہولت کار بنے رہے۔

جسٹس محسن اختر نے کہا کہ لوگ پہاڑیاں تک اپنے کھاتے میں ڈال گئے، سرکاری زمینوں پر ذاتی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں۔انہوں نے سی ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا بنی گالہ کے سارے گھر غیرقانونی اور گرائے جانے کے قابل نہیں ہیں؟سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا

کہ بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، جس پر جسٹس محسن اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ ہزار کنال زمین ایک سینیٹر کو الاٹ کر چکے ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سینیٹر، چیئرمین سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے خلاف یہ سیدھا سیدھا نیب کا کیس بنتا ہے، ادارے سرکاری زمین کے محافظ ہوتے ہیں، یہ ان کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…