منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی، من پسند تقرریوں اور تبادلوں کا انکشاف

datetime 8  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی، من پسند تقرریوں اور تبادلوں کا انکشاف ہوا جس  پر وزارت خارجہ میں غیر قانونی تعیناتیوں کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ درخواست دائر کر دی گئی ۔

درخواست گزار نے کہاکہ 2015 سے قبل وزارت خارجہ کی جانب سے من پسند افسران کو سفارتی لحاظ سے اہم ممالک میں تعینات کیا جاتا تھا۔درخواست گزار نے کہاکہ 2015 میں تقرریوں اور تبادلوں کی پالیسی کیلئے 9 ممبران کی کمیٹی تشکیل دی گئی، منصفانہ تقرریوں اور تبادلوں کیلئے 9 رکنی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری وزارت خارجہ نے دی تھی۔درخواست گزار نے کہاکہ کمیٹی نے افسران کی تبادلوں اور تقرریوں کے حوالے سے پالیسی وضع کی، پالیسی کے مطابق افسران کی اہم سفارتی تعلقات والے ممالک میں تعیناتی کیلئے انٹرویو لیے جانے تھے۔درخواست گزار نے کہاکہ کمیٹی پالیسی کے مطابق تعیناتی سے پہلے افسران کی پیشہ ورانہ قابلیت کو بھی جانچنا تھا، سال 2020 میں 9 رکنی کمیٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیاکہ متعدد بار معاملے کو وزارت خارجہ کے سامنے اٹھایا مگر داد رسی نہیں ہوئی۔ درخواست میں کہاگیاکہ وزارت خارجہ نے انٹرویو پینل کو اطلاع دیئے بغیر من پسند افراد کو اہم ممالک کے مشن میں تعینات کیا۔

پالیسی کے تحت افسران سے انکی رضامندی بھی پوچھیں جانی تھی، وزارت خارجہ نے دیگر افسران سے بغیر پوچھے انکی مختلف ممالک میں تقرریاں کیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ وزارت خارجہ کی پالیسی کیخلاف تبادلے اور تقرریوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ وزارت خارجہ کو تبادلوں اور تقرریوں کے حوالے سے 2015 کی پالیسی پر من و عن عمل درآمد کا حکم دیا جائے۔درخواست میں وفاقی حکومت کو بذریعہ سیکرٹری، وزارت خارجہ اور سیکرٹری امور خارجہ کو فریق بنایا گیا،درخواست ڈائریکٹر پبلک ڈپلومیسی ماجد خان لودھی اور دیگر 5 ملازمین نے دائر کی ہے،وزارت خارجہ کے افسران بیرسٹر ظفر اللہ خان اور عمر سجاد چھاون کے ذریعے درخواست دائر کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…