ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

شہباز شریف نے آصف زرداری کو گلے میں پٹا ڈال کر سڑکوں پر گھسیٹنے کا فیصلہ کیوں ملتوی کر دیا؟سینئر صحافی کا اہم انکشاف

datetime 3  ستمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد، کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )سینئر صحافی اورمعروف تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گلے میں پٹا ڈال کر سڑکوں پر گھسیٹنے کا فیصلہ کیا تھا

یہ تو آصف علی زرداری کی خوش قسمتی ہے کہ وہ بیماری کی وجہ سے بچ گئے، کیونکہ شہباز شریف نے آصف علی زرداری کو بیماری کی وجہ سے گھسیٹنے کا فیصلہ ملتوی کیا ہوا ہے۔یاد رہے کہ ملک کی دوبڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔مسلم لیگ (ن)کا اعلی سطحی وفد پارٹی صدر میاں شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ شام سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے بلاول ہاس پہنچا تھا ۔ ملاقات میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پی پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا بھی موجود تھے جبکہ مسلم لیگ(ن)کے وفد میں مریم اورنگزیب، احسن اقبال، زبیر احمد، رانا مشہود اور شاہ محمد شاہ شامل تھے۔آصف علی زرداری نے اپنی علالت کے باوجود بلاول ہائوس کے دروازے پر آکر میاں شہباز شریف اور ان کے رفقاکا بڑی گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔

سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں قومی سیاست سے متعلق اہم امور زیربحث آئے۔باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے موجودہ حکومت کی سیاسی انتقامی کارروائیوں، حالیہ گرفتاریوں اور

نیب کاروائیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اصولی فیصلہ کرلیا اور انہوں نے اس رائے کا اظہار بھی کیا کہ حکومت اپنی مخالف سیاسی شخصیات کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے روکنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپوزیشن کی صفوں

میں کامل اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ۔دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی کے انعقاد پر اتفاق کیا اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔ملاقات میں طے کیا گیا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے اے پی سی کی تاریخ کا اعلان ہوگا۔دونوں جماعتوں کی قیادت نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ پارلیمان میں موجود تمام ہم خیال جماعتوں کیساتھ رابطے بڑھائے جائیں گے اوراب خاموش رہنے یا مصلحت کا شکار ہونے کا وقت نہیں رہا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…